مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 157
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 157 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کھلتے جائیں گے اور وہ نیکیاں بھی آپ کے اندر داخل ہوں گی۔قرآن کریم پڑھیں اور سمجھ کر پڑھیں پھر اللہ تعالیٰ کے حکموں کو سمجھنے کے لئے قرآن کریم کا پڑھنا اور سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے تبھی آپ کو ان احکامات کا پتہ چلے گا جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں دیئے ہیں تبھی ان نیک اعمال کی طرف توجہ پیدا ہوگی جن کے کرنے کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلائی ہے۔ہر ماحول، ہر طبقے، ہر طبیعت اور ہر عمر کے لوگوں کے لئے قرآن کریم میں احکامات موجود ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یا درکھو قرآن کریم میں 500 کے قریب حکم ہیں اور اس میں تمہارے ہر ایک عضو اور ہر ایک قوت یعنی انسان کے جتنے اعضاء ہیں ، ہاتھ ، پاؤں، آنکھ ، کان ، ناک منہ ہر ایک عضو اور ہر ایک قوت کے لئے جتنی بھی طاقتیں دی گئی ہیں اور ہر یک وضع اور ہر یک حالت اور ہر ایک عمر اور ہر یک مرتبہ فہیم یعنی جتنا جتنا انسان کی عقل کا لیول ہے اور مرتبہ فطرت جو اس کی فطرت کی فطرت ہے اس کے مطابق اور مرتبہ سلوک جو اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی توجہ ہے اور مرتبہ انفراد اور اجتماع کے لحاظ سے روحانی دعوت تمہاری کی ہے۔یعنی ہر لیول پہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں احکامات دیئے ہیں۔نصیحت کی ہے اور ارشادات فرمائے ہیں اور یہی دعوت ہے ان پر عمل کریں گے تو یہی روحانی غذا ہے۔جس سے آپ کی روحانی ترقی ہوگی۔تو جتنی جتنی کسی میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھنے کی صلاحیت ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہے اس کے حضور جھکتے ہوئے اس سے ان باتوں کو جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں۔سمجھنے کی مدد مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عقل اور روحانی تعلق اور علم کے مطابق ان باتوں اور احکامات کو سمجھنے کا اس کو فہم عطا کرتا ہے اس کو عقل عطا کرتا ہے۔قرآن کریم میں دینی اور دنیاوی علوم کے خزانے ہیں پس قرآن کریم کی تلاوت کرنے اور اس کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی ہمارے نو جوانوں کو عادت ڈالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔تمام دینی اور دنیاوی علوم کے خزانے اس میں محفوظ ہیں۔اسی میں رہنمائی ہے دنیاوی تعلیم کے لئے بھی ہمارے نوجوان جو پڑھ رہے ہیں یو نیورسٹیوں میں یا ہائی کلاسز میں انہیں قرآن کریم سے رہنمائی لینی چاہیے۔یہی بات ہمارے طلباء کو دوسروں سے ممتاز کرے گی۔ان میں اور غیروں میں فرق