مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 3

3 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم یافتہ ملکوں کے لوگ ان ترقی یافتہ ملکوں میں آ کر بھی اور اپنے ملک میں بھی ان کے حملوں کی وجہ سے ان کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔اور اس نام نہاد Civilized Society کی برائیاں فوراً اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔پس اُن کے حملوں سے بچنے کے لئے اور ہر قسم کے کمپلیکس (Complex) سے، احساس کمتری سے اپنے آپ کو آزا در کھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا ذکر انتہائی ضروری ہے۔اسی سے دلوں میں جرات پیدا ہوگی ، پاک تبدیلی پیدا ہوگی۔۔۔۔دعوت الی اللہ کے موثر ذرائع پس ہمیشہ یادرکھیں کہ احمدی ہونے کے بعد اپنے نیک نمونے قائم کرنا اور احمدیت کے پیغام کو پہنچانا ہر احمدی کا کام اور اس کا فرض ہے۔یہاں آپ میں سے اکثریت نبی سے آئے ہوئے احمدیوں کی ہے۔چند فیملیاں پاکستان سے بھی آئی ہوئی ہیں۔یادرکھیں جوبھی نجین یا پاکستانی یہاں ہیں سب کا کام اس پیغام کو پہنچانا ہے۔لیکن نجی کے حوالے سے میں بات کرتا ہوں کہ نجی میں احمدیت کوئی چالیس پچاس سال پہلے آئی تھی اور جماعت کے وہ بزرگ جن کو جماعت میں شمولیت کی توفیق ملی انہوں نے اپنے اندر تبدیلیاں بھی پیدا کیں۔جماعت کی خاطر قربانی بھی دی اور احمدیت یعنی حقیقی (دین حق) کے پیغام کو اپنے ہم قوموں تک بھی پہنچایا۔اور پھر دیکھ لیں تھوڑے عرصے میں انہوں نے کافی بیعتیں کروائیں۔اب جبکہ اُس وقت کے مقابلے میں آپ کی تعداد بھی کافی ہے، سہولتیں بھی زیادہ ہیں نجی میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی۔لیکن اس توجہ کے ساتھ بیعت میں کروانے کی طرف کوشش نہیں ہو رہی جو پہلوں نے کی۔یہاں سے نبی والے بھی سن رہے ہیں، اتفاق سے وقت بھی ایک ہے۔تو جونجی میں رہتے ہیں ان کو بھی میں کہتا ہوں کہ اپنی ( دعوت الی اللہ ) کی کوششوں کو تیز کریں اور اپنے عملی نمونے دکھا ئیں اپنے اندر ( دین حق کی صحیح روح پیدا کریں۔آپ لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں آپ بھی اس کوشش میں رہیں۔اس پیغام کو آگے پہنچا ئیں۔اپنے عملی نمونے بھی دکھائیں۔یہاں ( دعوت الی اللہ ) کے لئے مختلف جگہوں پر جا کر جائزہ لیں ، چھوٹی چھوٹی جگہوں پر جائیں۔گزشتہ سالوں میں دو تین دفعہ میں اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ چھوٹی جگہوں پر پیغام پہنچانے اور قبولیت کے امکانات عموماً زیادہ ہوتے ہیں ، خاص طور پر تیسری دنیا میں۔ان کی مخالفت اگر ہوتی ہے تو لاعلمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔دنیاداری کی وجہ سے عموما نہیں ہوتی۔پھر مختلف قوموں کے لوگ ہیں، نجی میں بھی اور یہاں بھی ہیں۔آسٹریلیا میں بھی ہیں۔یہ جوسارا علاقہ ہے ان تک پہنچیں۔اُن کی زبان میں اُن کو لٹریچر دیں، ان سے مسلسل رابطے رکھیں۔تعلقات