مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 127

127 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راہ جلد پنجم حصہ چہارم سے کام نہیں لیا جارہا ہوتا۔تو یہ الزام تراشیاں اور بچوں کے بیان اور بچوں کے سامنے ماں کے متعلق باتیں، جو انتہائی نامناسب ہوتی ہیں، بچوں کے اخلاق بھی تباہ کر رہی ہوتی ہیں۔ایسے مرد اپنی اناؤں کی خاطر بچوں کو آگ میں دھکیل رہے ہوتے ہیں اور بعض مردوں کی دینی غیرت بھی اس طرح مرجاتی ہے کہ ان غلط حرکتوں کی وجہ سے اگر ان کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور اخراج از نظام جماعت ہو گیا تو تب بھی ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی ، اپنی انا کی خاطر دین چھوڑ بیٹھتے ہیں۔والدین کے اخراج کی صورت میں وقف نو بچہ وقف میں نہیں رہتا وقف نو کے حوالے سے یہاں ضمنا میں یہ بھی ذکر کر دوں کہ اگر ان کا بچہ واقف نو ہو تو والدین کے اخراج کی صورت میں اس کا بھی وقف ختم ہو جاتا ہے۔اس لئے جماعتیں ایسی صورت میں جہاں جہاں بھی ایسا ہے خود جائزہ لیا کریں۔پاکستان میں تو وکالت وقف نو اس بات کا ریکارڈ رکھتی ہے لیکن باقی ملکوں میں بھی امیر جماعت اور سیکر ٹریان وقف نو کا کام ہے کہ اس چیز کا خیال رکھیں۔اور پھر معافی کی صورت میں ہر بچے کا انفرادی معاملہ خلیفہ وقت کے سامنے علیحدہ پیش ہوتا ہے کہ آیا اس کا دوبارہ وقف بحال کرنا ہے کہ نہیں ؟ اس لئے ریکارڈ رکھنا بھی ضروری ہے۔ظلم کو ختم کرنا سب پر فرض ہے بہر حال جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اصل کام ظلم کو ختم کرنا ہے اور انصاف قائم کرنا ہے اور خلافت کے فرائض میں سے انصاف کرنا اور انصاف کو قائم کرنا ایک بہت بڑا فرض ہے۔اس لئے جماعتی عہدیدار بھی اس ذمہ داری کو سمجھیں کہ وہ جس نظام جماعت کے لئے کام کر رہے ہیں وہ خلیفہ وقت کی نمائندگی میں کام کر رہا ہے۔اس لئے انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرنا ان کا اولین فرض ہے۔یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر ہر ایک کو یہ ذمہ داری نبھانی چاہئے۔فیصلے کرتے وقت، خلیفہ وقت کو سفارش کرتے وقت ہر قسم کے تعلق سے بالا ہو کر سفارش کیا کریں۔اگر کسی کی حرکت پر فوری غصہ آئے تو پھر دودن ٹھہر کر سفارش کرنی چاہئے تاکہ کسی بھی قسم کی جانبدارانہ رائے نہ ہو۔اور فریقین بھی یا درکھیں کہ بعض اوقات اپنے حق لینے کے لئے غلط بیانی سے کام لیتے ہیں یا یہ کہنا چاہئے کہ نا جائز حق مانگتے ہیں۔( تو انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے )