مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 117 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 117

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 117 ارشادات حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی آج ذرا کچھ وضاحت سے یہ فرض ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔جیسا کہ میں نے کہا آجکل بذریعہ خطوط یا بعض ملنے والوں سے سن کر طبیعت بے چین ہو جاتی ہے کہ ہمارے مقاصد کتنے عظیم ہیں اور ہم ذاتی اناؤں کو مسائل کا پہاڑ سمجھ کر کن چھوٹے چھوٹے لغو مسائل میں الجھ کر اپنے گھر کی چھوٹی سی جنت کو جہنم بنا کر جماعتی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کی بجائے منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔ان مسائل کو کھڑا کرنے میں جو بھی فریق اپنی اناؤں کے جال میں اپنے آپ کو بھی اور دوسرے فریق کو بھی اور نظام جماعت کو بھی اور پھر آخر کار بعض اوقات مجھے بھی الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے عقل دے اور وہ اس مقصد کو سمجھے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہوگئی ہے اس کو دور کر کے محبت اور اخلاص کو دوبارہ قائم کروں۔“ پھر آپ فرماتے ہیں ”خدا نے مجھے دنیا میں اس لئے بھیجا کہ تا میں حلم اور خلق اور نرمی سے گم گشتہ لوگوں کو خدا اور اس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں اور وہ نور جو مجھے دیا گیا ہے اس کی روشنی سے لوگوں کو راہ راست پر چلاؤں۔انسان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ ایسے دلائل اس کو ملیں جن کے رو سے اس کو یقین آجائے کہ خدا ہے۔پس یہ بڑا مقصد ہے جس کے پورا کرنے کی ایک احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور اس کو جستجو رہنی چاہئے۔اور کوئی احمدی بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مقصد کے حصول کے لئے آپ کی مدد نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ اپنی اناؤں سے چھٹکارا حاصل نہیں کرتا ان پاک ہدایتوں پر عمل نہیں کرتا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دی ہیں۔اگر ہمارے اپنے گھروں میں نرمی اور اعلیٰ اخلاق کے نظارے نظر نہیں آ رہے تو ہم نے گم گشتہ اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو راستہ کیا دکھانا ہے؟ ہم تو خودان گم گشتہ لوگوں میں شامل ہیں، ہم تو خود اپنی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔پس ہر احمدی کو اپنا جائزہ لینا چاہئے ، اپنے گھر کا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم قرآنی تعلیم سے ہٹے ہوئے تو نہیں ہیں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے لاشعوری طور پر دور تو نہیں چلے گئے؟ اپنی اناؤں کے جال میں تو نہیں پھنسے ہوئے؟ اس بات کا جائزہ لڑکے کو بھی لینا ہوگا اور لڑکی