مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 82

82 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راہ جلد پنجم حصہ چہارم جو عہد کیا ہوا ہے اس کو پورا کرنے والے ہیں اور اپنی جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کی پرواہ کئے بغیر ہم ایک اعلیٰ مقصد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ہر برائی جو آپ ترک کریں گے ، چھوڑیں گے وہ آپ کو اس بات کی خوشی پہنچا رہی ہوگی کہ اس زمانہ میں جب ہر طرف برائیوں اور لغویات کی بھر مار ہے، جگہ جگہ پر برائیوں اور بے ہودگیوں کے گندے اور کانٹوں سے پُر جھاڑیوں والے راستے ہیں جن سے بچنا محال ہے، جو قدم قدم پر راستے میں روک بن رہے ہیں۔لیکن ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے ان برائیوں سے بچ رہے ہیں۔لیکن یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان برائیوں سے بچنے کیلئے بھی تمہیں میری ضرورت ہے۔میری مدد کے بغیر نہ تم نیکیوں کی تو فیق پاسکتے ہو اور نہ برائیوں سے بچ سکتے ہو۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے استغفار کا حکم دیا ہے تا کہ نیکیوں کے کرنے کی توفیق بھی ملتی رہے اور برائیوں سے بچنے کی توفیق بھی ملتی رہے۔کیونکہ انسان کے اندر جو بدی کا مادہ ہے، جس کو شیطان ہر وقت ابھارنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، جس کیلئے اس نے ایک چیلنج کیا ہوا ہے کہ اے اللہ سوائے تیرے چند خاص بندوں کے میں تمام انسانوں کو ایسے ایسے دل لبھا دینے والے نظارے دکھاؤں گا جن کو دیکھ کر تیرے پیدا کئے ہوئے اس آدم کی اولاد تجھے بھول کر میرے پیچھے چلے گی۔پس اس زمانہ میں تو خاص طور پر اس بات کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستوں پر چلنے کیلئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی جائے۔اگر اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ جس کو اللہ تعالیٰ بچپن سے ہی رؤیا ء صادقہ سے نوازتا رہا ، بچپن سے ہی اس کی طبیعت میں نیکی رکھ دی، اللہ تعالیٰ نے اس کو نبی بنانے کا فیصلہ فرمایا، اس کو جب شیطانی حربوں نے بدی کرنے کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تو اس نے بے اختیار اپنے اللہ کو پکار کر کہا کہ: وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَارَحِمَ رَبِّي طَ إِنَّ رَبِّي غفور رحيم (يوسف : 54) اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتا۔یقینا نفس تو بدی کا بہت ہی حکم دینے والا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم کرے۔یقیناً میرا رب بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو باقی عام انسانوں کو کس قدر اللہ تعالیٰ کی مدد اور رحم کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور رحم اس کے حضور استغفار سے ہی آتا ہے۔پس ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگیں کیونکہ اس کے