مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 81
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 81 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ UK سے اختتامی خطاب مورخہ 17 ستمبر 2006ء کو سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ UK سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- نو جوانی میں نفس امارہ کا اہتمام کریں نو جوانی کی عمر ایسی عمر ہے جس میں اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہو اور اس کا رحم شامل حال نہ ہو تو ایک نوجوان بہت سی برائیوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دوری کے علاوہ بعض ایسی برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو اس کی اپنی زندگی کو روگ لگا دیتی ہیں۔اس کے خاندان کو اس وجہ سے مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہیں۔پھر بعض برائیاں معاشرے میں فساد کا باعث بن رہی ہوتی ہیں۔پس یہ عمر ایک ایسی عمر ہے جس میں ایک شخص اپنی زندگی کے سنوارنے اور بگاڑنے کے ساتھ ساتھ قوم کی زندگی کے سنوارنے اور بگاڑنے کا کردار بھی ادا کر رہا ہوتا ہے۔اس وجہ سے حضرت مصلح موعود خلیفہ اسی الثانی (نوراللہ مرقدہ) نے فرمایا تھا کہ قوموں کی اصلاح نو جوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی۔“ پس یہ ایک ایسا فقرہ ہے، یہ ایک ایسا نعرہ ہے کہ اس فقرہ کا دل میں ہر وقت احساس پیدا ہوتے رہنا اور جماعت کو اس کی جگالی کرتے رہنا، دہراتے رہنا ایک ایسا کام ہے جو جماعت احمدیہ کے شاندار مستقبل کی ضمانت ہے۔اس لئے ہمیشہ اس فقرہ پر، اس نعرہ پر غور کرتے رہیں۔یہ کوئی معمولی نعرہ نہیں ہے۔یہ نعرہ آپ کو اپنے جائزے لیتے رہنے کی طرف توجہ دلاتا رہے گا اور اس کا احساس کہ ہمارے ہر عمل پر جماعت کی ترقی کا انحصار ہے آپ کو ان باتوں کی طرف مائل کرتا رہے گا جن کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ان برائیوں سے روکتا رہے گا جن سے رکنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ہر نیکی جو آپ کریں گے وہ آپ کیلئے اس وجہ سے خوشی اور راحت کا باعث بن رہی ہوگی کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس زمانہ کے امام سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کا