مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 78
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 78 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الامس ایدہ اللہ تعالی دنیاوی ذریعوں کو پیچھے پھینک دے اور اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان ہو، اس کے احکامات پر مکمل عمل ہو۔فی زمانہ دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔پس ہم خوش قسمت ہیں، جیسے کہ میں نے کہا ، کہ زمانے کے امام نے دعا کی فلاسفی کو کھول کر ہمارے سامنے رکھا اور واضح فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی صفت مجیب کا صحیح فہم وادراک عطا فرمایا۔پس آج ہم نے نہ صرف اپنی بقا کے لئے ، اپنی ذات کی بقا کے لئے ، اپنے خاندان کی بقا کے لئے ، جماعت احمدیہ کی ترقیات کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہے بلکہ امت مسلمہ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر پوری انسانیت کی بقا کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ کرنی ہے جس کی آج بہت ضرورت ہے۔پس ہر احمدی کو ان دنوں میں ( ان دنوں سے میری مراد ہے ہمیشہ ہی ) اور آج کل خاص طور پر جب حالات بڑے بگڑ رہے ہیں، بہت زیادہ اپنے رب کے حضور جھک کر دعائیں کرنی چاہئیں۔مضطر کی طرح اسے پکاریں۔بے قرار ہو کر اسے پکاریں۔آج امت مسلمہ جس دور سے گزر رہی ہے اور مسلمان ممالک جن پر یشانیوں میں مبتلا ہیں اس کا حل سوائے دعا کے اور کچھ نہیں۔اور دعا کے اس محفوظ قلعے میں جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فر مایا آج احمدی کے سوا اور کوئی نہیں۔پس امت مسلمہ کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اندرونی اور بیرونی فتنوں سے نجات دے۔ان کو اس پیغام کو سمجھنے کی توفیق دے جو آج سے چودہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم امت کو دیا تھا۔یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا سے ظلم ختم کرے۔انسان اپنے پیدا کرنے والے خدا کی طرف رجوع کرے۔اسے پہچان کر اپنی ضدوں اور اناؤں کے جال سے باہر نکلے۔خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کو آواز نہ دے بلکہ اس کی طرف جھکے اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو سمجھنے والا ہو، اس بات کو سمجھنے والا ہو کہ میری طرف آؤ ، خالص ہو کر مجھے پکارو تا کہ میں تمہاری دعاؤں کو سن کر اس دنیا کو جس کو تم سب کچھ سمجھتے ہو، جو کہ حقیقت میں عارضی اور چند روزہ ہے، تمہارے لئے امن کا گہوارہ بنا دوں تا کہ پھر نیک اعمال کی وجہ سے تم لوگ میری دائمی جنت کے وارث بنو۔جیسا کہ میں نے کہا ہم احمدی تو صرف دعا ہی کر سکتے ہیں اور درددل کے ساتھ ظالم اور مظلوم دونوں کے لئے دعا کر سکتے ہیں اور اپنے خدا سے یہ عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ اس امت پر رحم فرما اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے کے صدقے رحم فرماتے ہوئے ان لوگوں کو عقل اور سمجھ عطا فرما، ان کو