مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 76
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 76 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبه جمعه فرموده 11 راگست 2006ء سے اقتباسات هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الذِيْنَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ (المومن : 66) أَمَّنْ يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ءَ إِلهُ مَّعَ اللَّهِ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ (سورة النمل آیت :63) ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ پر انحصار کریں پس اس زمانے میں ہمیں زمانے کے امام کے ساتھ جڑ کر دعاؤں کی قبولیت کا بھی فہم و ادراک حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھنے کا بھی فہم حاصل ہوا۔اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھنے کا بھی ادراک حاصل ہوا کیونکہ زمانے کے امام کے ساتھ چمٹنے سے اللہ تعالیٰ ان ماننے والوں کو بھی ہر ایک کے اپنے تعلق کے معیار کے مطابق جو اس کا خدا تعالیٰ سے ہے، اپنی صفات کے جلوے دکھاتا ہے۔پس قرآن کریم کا یہ دعویٰ صرف دعوی نہیں کہ اسلام کا خدا زندہ خدا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے اسے پکارو، کامل تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے بلکہ عملاً اس کے نمونے بھی دکھاتا ہے۔پس اس اعلان سے اگر فائدہ اٹھانا ہے تو اس شرط پر عمل کرنا ہوگا کہ صرف اور صرف وہی معبود ہو اور اس کو حاصل کرنے کے لئے باقی سب کچھ چھوڑنا ہوگا۔اور جب دنیا کے تمام ذرائع خدا کے مقابلے پر پیچ سمجھ کر چھوڑیں گے اور خالصہ اسی کے ہو کر اس کو پکاریں گے پھر وہ ان پکارنے والوں کی پکار سنے گا، نوازے گا اور قبول کرے گا۔ہمیشہ ہمارے ذہن میں دعا کرتے ہوئے یہ بات ہونی چاہئے کہ وہ ایک ہی ہمارا رب ہے۔جب اس نے بغیر مانگے ہمارے لئے اتنے انتظامات کئے ہوئے ہیں تو جب ہم خالص ہو کر اس کی رضا حاصل