مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 58
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 58 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی بہر حال یہ میں کہہ رہا تھا کہ اور معاملوں میں جو سختی کرتے ہیں تو یہاں بھی سختی ہو سکتی ہے۔لیکن سختی سے میرا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اس بات پر کہ ہمیں چلو ا جازت مل گئی ہے مارنا پیٹنا شروع کر دیں اپنی بیویوں کو۔بعضوں کا یہ بھی حال شروع ہو جاتا ہے کہ چلو ہمیں چھٹی مل گئی۔یہ مارنا پیٹنا تو ویسے ہی منع ہے۔اس لئے اس کے بہانے کبھی تلاش نہ کریں اور اصل مقصد جو ہے اصلاح کا وہ اصلاح کی کوشش کریں اور اصلاح پیار و محبت سے ہی ہوتی ہے۔کیونکہ بعض دفعہ یہ جونا جائز قسم کی سختیاں شروع ہو جاتی ہیں اور مارنا پیٹنا جو ہے اس سے اولا دیں بربادہور ہی ہوتی ہیں۔اس لئے اپنی اولادوں کا بھی خیال رکھیں۔یہ بچے آپ کے بچے نہیں بلکہ جماعت کے بھی بچے ہیں اس لئے اس لحاظ سے بھی ان کی تربیت کرنی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی ہر قسم کی ذمہ داریاں نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ لوگ اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے جو اس زمانے کے امام کے ساتھ کیا ہے ہر ایک احمدی نے حقیقی معنوں میں ہر رنگ میں اپنی اصلاح کرتے ہوئے اپنے پیدا کرنے والے خدا سے تعلق جوڑنے والے ہوں اور اس کے حقیقی عبد بننے والے ہوں۔عاملہ صحت کا خیال رکھے بات ہو رہی تھی صحت جسمانی کی شروع میں میں نے کی تھی صحت مند جسم کے لئے۔ایک تو خدام الاحمدیہ مرکز یہ کی عاملہ کے ضمن میں آخر میں میں کہنا چاہتا ہوں کہ آج کی جو رسہ کشی میں نے کروائی زبر دستی ان سے اُس سے یہ پتا لگ گیا کہ مرکزی عاملہ کی صحت بہت کمزور ہے۔اس لئے ان کو اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ان کے سپر دزیادہ ذمہ داریاں ہیں اور خدام الاحمدیہ کی ایک بات میں اللہ کا شکر گزار بھی ہوں ان کا بھی شکر یہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جو وعدہ کیا تھا خدام الاحمدیہ نے ( بیوت الذکر ) کے لئے 1,1 ملین کا تقریباً پورا کر دیا ہے۔الحمد للہ۔پہلے چند ہزار کی کمی تھی لیکن ابھی جوLatest رپورٹ انہوں نے دی ہے اُس کے مطابق جو وعدہ کیا تھا اس سے بڑھ گئے ہیں۔ایک ضروری وضاحت دوسرے ایک میں وضاحت کردوں بعض طبیعتوں میں، طبائع مختلف ہوتی ہیں ذہنوں میں خیال آ جاتا ہے خدام الاحمدیہ نے ایک پروگرام رکھا تھا اسٹوڈنٹس کے لئے سرٹیفیکیٹ ایشو کرنے کا۔یہ اصل میں ایک جو نظام ہے وہ جماعتی نظام ہے مرکزی اس کے زیر انتظام ہونا چاہیے۔اس لئے میں نے اس کو روک دیا تھا۔میرا