مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 55

55 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم جاتے ہیں کہ فلاں شخص نے یہ بات کی تھی فلاں عہدیدار نے یہ بات کی تھی اور اس کی اور فلاں قائد کی یا مہتم کی یا فلاں ریجنل امیر کی بڑی آج کل ٹھنی رہتی ہے۔حالانکہ بات کچھ بھی نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ اس سے فتنہ پیدا ہو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔دوسرے شخص کی یا اشخاص کی جن کے متعلق باتیں کی جاری رہی ہیں صرف بدنامی ہورہی ہوتی ہے۔اس بیہودگی کو روکنے کے لئے آنحضرت نے فرمایا کہ کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔پھر ایک بیماری ہے کسی بات کو دو آدمیوں کے درمیان اس طرح بیان کرنا جس سے دو مومنوں کے درمیان رنجش پیدا ہو یا پیدا ہونے کا خطرہ ہو۔اور کئی دفعہ ایسے واقعات ہوتے ہیں جس سے ایک شخص اپنی بدفطرتی کی وجہ سے دو خاندانوں میں پھوٹ ڈال دیتا ہے، فتنہ پیدا کر دیتا ہے۔پہلے کہا جاتا تھا کہ عورتیں ایسی باتیں کرتی ہیں لیکن اب تو مردوں میں بھی یہ بیہودگی اور لغویات پیدا ہو چکی ہیں۔بعض میں تو بہت زیادہ۔جس سے دو خاندانوں کے تعلقات ختم ہو جاتے ہیں۔لیکن اب تو اس حد تک یہ بڑھ چکی ہے کہ بعض دفعہ فکر پیدا ہو جاتی ہے۔میاں بیوی میں پھوٹ ڈال دی جاتی ہے۔تو ایسے فتنہ پیدا کرنے والے شخص کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ آدمی بدترین ہے جس کے دومنہ ہوں، یعنی ایک کے پاس جا کے کوئی بات کی دوسرے کے پاس جا کے کچھ بات کی تا کہ فتنہ پیدا ہو۔اور بڑا منافق اور چغل خور ہے ایسا شخص پس ہمیشہ ایسی باتوں سے بچنا چاہئے۔یہ عمر ہے بچوں کی بھی نو جوانوں کی بھی، جو جوانی میں داخل ہورہے ہیں اُن کی بھی اور جونو جوان ہیں ابھی ان کی بھی کہ اس عمر میں اپنے آپ کو جتنی عادت ڈال لیں گے برائیوں سے بچنے کی اتنی زیادہ اصلاح کی طرف قدم بڑھتا چلا جائیگا۔جنت میں جانے کا گر ہماری اصلاح کے لئے جو حکم ہے کہ نیکیوں میں آگے بڑھو اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اور صحابہ اپنی اصلاح کے لئے ہر وقت انسان کامل صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کے راستے پوچھا کرتے تھے۔جو بہت قریب رہنے والے تھے وہ تو آپ کے عمل کو دیکھ کر اپنی اصلاح کر لیا کرتے تھے۔جو زیادہ قریب نہیں ہوتے تھے وہ جب مجلس میں آتے تھے تو آ کر آپ سے سوال پوچھا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کی کہ مجھے کوئی ایسا گر بتائیں جو سیدھا مجھے جنت میں لے