مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 175
175 ارشادات حضرت خلیہ مسیح الامس ایدہ اللہ علی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داری سپرد کی ہے اس کی ادائیگی میں سستی نہ ہو جائے اور یہ ذمہ داری ایسی ہے کہ جو نہ کسی ہوشیاری سے ادا ہو سکتی ہے ، نہ صرف علم سے ادا ہوسکتی ہے ، نہ صرف عقل سے ادا ہوسکتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو تو ایک قدم بھی نہیں چلا جا سکتا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دعاؤں کے ذریعہ ہی جذب کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔دعاؤں سے خلیفہ المسیح کی مددکریں پس سب سے پہلے تو میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ دعاؤں کے ذریعہ سے میری مدد کریں اور میں ہر وقت آپ کے لئے دعا گور ہوں کیونکہ جماعت اور خلافت لازم وملزوم ہیں۔اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذمہ داریاں اُس طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس طرح وہ چاہتا ہے۔جب سب مل کر خلافت احمد یہ اور خلیفہ وقت کے لئے دعا کر رہے ہوں گے تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کو کھینچنے والی ہوگی کیونکہ امام اور جماعت کی دعائیں ایک سمت میں چل رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اللہ تعالیٰ سے مانگ رہی ہوں گی۔تو جب ایک سمت میں چل رہی ہوں گی تو دعائیں کرنے والوں کی سمتیں بھی ایک طرف چلتی رہیں گی۔ان کو بھی یہ خیال رہے گا کہ جب ہم دعا کر رہے ہیں تو ہمارے عمل بھی ایسے ہونے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوں، اس سمت میں جا رہے ہوں جہاں خلیفہ وقت اور اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق ہمیں جانا چاہئے یا خلیفہ وقت اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق ہمیں لے جانا چاہتا ہے۔اگر اس احساس کے ساتھ دعا کر رہے ہوں گے تو اپنی اصلاح کی بھی ساتھ ساتھ تو فیق ملتی رہے گی اور امام کے لئے نگرانی کا کام بھی آسان ہورہا ہوگا۔پس اس نکتہ کو ہر احمدی کو سمجھنا چاہئے کہ جہاں امام کی ذمہ داری ہے کہ انصاف قائم کرے اور اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق جماعت کی تربیت کی طرف توجہ دے، ان کی تکلیفوں کو دور کرنے کی کوشش کرے، ان کے لئے دعائیں کرے وہاں افراد جماعت کو بھی اس احساس کو اپنے اندر قائم کرنا ہوگا کہ اگر ہمیں خلافت سے محبت ہے تو ہم بھی اپنی حالتوں کو دیکھیں اور ان کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی زندگی کو اس نہج پر چلانے کی کوشش کریں جس پر خدا اور رسول کے حکموں کے مطابق ہماری زندگی چلنی چاہئے یا جس طرف ہمیں خلیفہ وقت چلانا چاہتا ہے۔