مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 174 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 174

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 174 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبه جمعه فرموده 06 را پریل 2007ء سے اقتباس امام اپنی رعیت کا نگران ہے۔۔۔۔۔آج میں بعض احادیث کا صفت مالکیت کے لحاظ سے ذکر کروں گا۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے۔امام نگران ہے اور وہ اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے۔آدمی اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔خادم اپنے مالک کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔( بخاری کتاب الاستقراض واداء الد یوان۔باب العبد راع في مال سیدہ ولا يعمل الا باذنه ) اس حدیث میں چار لوگوں کو توجہ دلائی گئی ہے۔ایک امام کو کہ وہ اپنی رعیت کا خیال رکھے۔ایک گھر کے سر براہ کو کہ وہ اپنے بیوی بچوں یا اگر اپنے خاندان کا سر براہ ہے تو اس کا خیال رکھے۔ایک عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگران ہے ان کا خیال رکھے۔ایک خادم جو اپنے مالک کے مال کا نگران ہے۔پھر آخر میں فرمایا کہ یہ سب لوگ جن کے سپرد یہ ذمہ داری کی گئی ہے، یہ سب یا درکھیں کہ جو مالک گل ہے، جو زمین و آسمان کا مالک ہے جس نے یہ ذمہ داریاں تمہارے سپرد کی ہیں وہ تم سے ان ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھے گا کہ صیح طرح ادا کی گئی ہیں یا نہیں کی گئیں۔جس دن وہ مالک یوم الدین جزا اور سزا کے فیصلے کرے گا اس دن یہ سب لوگ جوابدہ ہوں گے۔اس لئے کوئی معمولی بات نہیں ہے۔دل دہل جاتا ہے ہر اس شخص کا جو جزا سزا پر یقین رکھتا ہے۔پس سب سے پہلے فرمایا کہ امام پوچھا جائے گا اور یہ چیز تو ایسی ہے جس سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہو