مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 146
146 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم ایمان کے ساتھ ہجرت کی اور جہاد کی شرط رکھی ہے اور یہ چیز پھر ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید دلاتی ہے۔یہاں ہجرت سے مراد صرف ایک جگہ کو چھوڑنا ہی نہیں ہے کہ ہمیں اس لئے اسے چھوڑنا پڑا کیونکہ ان نیکیوں کو بجالانے میں کسی خاص جگہ پر ،یا کسی شہر میں یا ملکوں میں رکاوٹ پیدا ہورہی تھی جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نفس کی خواہشوں کو چھوڑنے والے لوگ بھی اس زمرہ میں شامل ہیں جو اپنے نفس کو قربان کرنے والے ہیں، اپنی برائیوں کو ختم کر کے نیکیوں پر قائم ہونے والے ہیں۔مغربی ممالک میں ہجرت کرنے والوں کی ذمہ داریاں پس ان مغربی ممالک میں آنے والے افراد کو بھی اس طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ اگر حالات کی وجہ سے اپنے ملکوں کو چھوڑنا پڑا ہے تو صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ باہر آ کر ہمارے حالات اچھے ہو گئے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ لینے کے لئے اپنی حالتوں کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔اپنے نفس کی بدیوں کو باہر نکال کر ان میں نیکیوں کو داخل کرنے کی ضرورت ہے۔تب یہ ہجرت مکمل ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو موقع دیا ہے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کے لئے اُس جہاد میں شامل ہونے کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس پاک دین کا پیغام پہنچا کر ہم نے کرنا ہے۔اس جہاد کے لئے مالی قربانیوں کی ضرورت ہے اور یہ مالی قربانیوں کا جہاد ہر احمدی کا جہاں بھی دنیا میں ہے ہمیشہ طرہ امتیاز رہا ہے۔یہاں آ کر کشائش پیدا ہو جانے کے بعد اس طرف سے بے پرواہ نہیں ہو جانا چاہئے۔پس اللہ تعالیٰ نے ایک احمدی کو جو جسمانی ہجرت کا موقع عطا فرمایا ہے اسے اس ہجرت کی وجہ سے اپنے نفس کی اصلاح کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے والے بن سکیں اور فی زمانہ جماعت کو جب ضرورت پڑتی ہے اور وقت اور مال کی قربانی کی طرف بلایا جاتا ہے تو اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفقاء کی قربانیوں کو یا درکھیں ہمیشہ یاد رکھیں یہ ان مومنین کی قربانیاں ہی تھیں جنہوں نے قرون اولیٰ میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو سمیٹنے کے لئے