مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 110
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 110 ارشادات حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کے فضلوں کو جذب کرنے والا بنائے۔کبھی یہ نہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکموں سے لا پرواہی برتنے والا ہو۔ایک حدیث میں آتا ہے ، حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر وہ شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر جمعہ کے دن جمعہ پڑھنا فرض کیا گیا ہے۔سوائے مریض ، مسافر ، عورت، بچے اور غلام کے۔جس شخص نے لہو ولعب اور تجارت کی وجہ سے جمعہ سے لا پرواہی برتی اللہ تعالیٰ بھی اس سے بے پرواہی کا سلوک کرے گا۔یقینا اللہ تعالیٰ بے نیاز اور حمد والا ہے۔(سنن دار قطنی کتاب الجمعة باب من تجب عليها الجمعة ) پس فکر کے ساتھ جمعوں کی ادائیگی کرنی چاہئے اور جو استثناء ہیں ان کا اس حدیث میں ذکر ہو گیا کہ مریض کی مجبوری ہوتی ہے نہیں جاسکتا۔پھر مسافر ہے ، بعض دفعہ مجبوری سے سفر کرنے پڑتے ہیں اس لئے مسافر کے بارے میں بھی آگیا کہ اگر کوئی مسافر ہے۔لیکن جو عمداً بغیر کسی وجہ کے جبکہ وقت بدلا جا سکتا ہے جمعہ کے دن سفر کرتے ہیں ، ان کی کوئی مجبوری نہیں ہے، ان کو بہر حال بچنا چاہیئے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے سفر کو پسند فرماتے تھے تا کہ جمعہ سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔اسی طرح عورت کے لئے ضروری نہیں کہ وہ جمعہ پر ضرور آئے ، عید پر آنا ہر عورت کے لئے ضروری ہے۔جو بھی ہوش وحواس رکھنے والی عورت ہے اس کے لئے عید پر آنا تو بہر حال ضروری ہے، ہر حالت میں آنا ضروری ہے۔لیکن جمعہ پر آنا ہر عورت کے لئے ضروری نہیں ہے اس لئے یہ استثناء ہے۔اسی طرح غلاموں کو بھی مجبوریاں ہوتی ہیں ، ان کو بھی چھوٹ دی گئی ہے۔بعض حالات میں وہ مجبور ہوتے ہیں ، ان کو کوئی گناہ نہیں۔پھر جمعہ کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا ذکر فرمایا کہ جمعے کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں مسلمان اللہ تعالیٰ سے نماز پڑھتے ہوئے جو بھی بھلائی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ وہ اس کو عطا کر دیتا ہے۔حدیث کے الفاظ ہیں وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلَّی۔( بخاری کتاب الجمعة باب الساعة التي في يوم الجمعة ) قبولیت دعا کی ایک اہم گھڑی بعض اور روایات ہیں اور حدیثوں کی جو مختلف تشریح کرنے والے ہیں وہ اس پر یہ کہتے ہیں کہ صرف نماز پڑھنے کے دوران ہی نہیں بلکہ خطبہ جمعہ بھی جمعہ کا حصہ ہے یہ بھی اسی طرح اس میں آ جاتا ہے، صرف