مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 68

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 68 ارشادات حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبه جمعه فرموده 16 جون 2006ء سے اقتباسات دعوت الی اللہ کے لئے نیک نمونے قائم کریں۔۔۔دوسری اہم چیز یہی ہے کہ (دعوت الی اللہ ) کی طرف کوشش ہو۔اس کے لئے اپنی حالتوں کو درست کرنے کے بعد، اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کے بعد، اپنی ( بیوت الذکر ) کو پیار ومحبت کا نشان بنانے کے بعد ، جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید کے پیغام کے ساتھ پیار و محبت کا پیغام ہر طرف پھیلانے کا نعرہ بلند ہو، احمدیت یعنی حقیقی (دین حق) کے پیغام کو اپنے علاقے کے ہر شخص تک پہنچادیں۔یہی پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کی پسند ہے۔اور یہی پیغام ہے جس سے دنیا کا امن اور سکون وابستہ ہے۔یہی پیغام ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہونا ہے۔آج روئے زمین پر اس خوبصورت پیغام کے علاوہ کوئی پیغام نہیں جو دنیا کو امن اور محبت کا گہوارہ بنا سکے اور بندے کو خدا کے حضور جھکنے والا بنا سکے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔کہ {وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ } ( حم سجدہ:34)۔یعنی اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو کہ اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے اور کہے کہ میں یقیناً کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔پس یہ کامل فرمانبرداری جس کی ہر احمدی سے توقع کی جاتی ہے اس وقت ہوگی جب نیک ، صالح عمل ہو رہے ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی ہو رہی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق بھی ادا ہور ہے ہوں گے اور پھر ایسے لوگ جب دعوت الی اللہ کرتے ہیں رہے تو ان کی سچائی کی وجہ سے لوگ بھی ان کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔اور ان نیک کاموں کی وجہ سے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے بھی منظور نظر ہو جاتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی مدد بھی فرماتا ہے۔( دعوت الی اللہ کے ) میدان میں ان کی روکیں دور ہو جاتی ہیں۔وہی مخالفین جو ( بیوت الذکر) کی تعمیر میں روکیں ڈال رہے ہوتے