مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 54
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 54 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی اسوۂ حسنہ کیا تھا۔آپ کی سچائی کا معیار کیا تھا۔وہ بلند مقام تھا کہ جو بدترین دشمن ابو جہل جو سب سے بڑا دشمن تھا آپ کا اس نے بھی یہ گواہی دی کہ ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے اور نہ کہہ سکتے ہیں کیونکہ آج تک ہم نے آپ کی ذات میں جھوٹ نہیں دیکھا۔لیکن جس کو اللہ ہدایت نہ دے اس کو تو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا نہ وہ ہدایت پاسکتا ہے کہ کہنے کے باوجود کہ ہم نے کبھی جھوٹ نہیں دیکھا۔یہی اس نے کہا کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔تمہاری سچائی کے قائل ہونے کے باوجود یہ ماننے کو تیار نہیں کہ آپ جو تعلیم لے کر آئے ہیں وہ سچی ہے۔اس کو ہم جھوٹا ہی کہیں گے اور کبھی نہیں مانیں گے اور اس لئے بد انجام بھی ہوا ہے۔اسی طرح اور بہت سے واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دشمن بھی ہمیشہ نبوت کے دعوے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی آپ کی سچائی کے قائل رہے۔آپ اپنے ماننے والوں کے سچائی کے معیار کیا دیکھنا چاہتے تھے۔اس بارے میں ایک روایت بیان کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ ' بڑے گناہ یہ ہیں اللہ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا اور ایک روایت میں آپ نے فرمایا ” جھوٹی قسم ، جس کے ذریعہ سے انسان کسی مسلمان کا حق مارے، کھا نا سب سے بڑے گناہ ہیں۔اب یہ دیکھیں آج کل بعض لوگ اپنا نا جائز طور پر حق لینے کے لئے یا کسی کا حق مارنے کے لئے کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے غلط بیانی کر جاتے ہیں۔بعض دفعہ بعض احمدی بھی کر جاتے ہیں چاہے اکاڈ کا ہی کیس ہوں۔آپ نوجوان اور بچے اس بات کو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو شرک کے برابر قرار دیا ہے اس لئے ہمیشہ سچائی پر قائم ہوں اور سچ بولیں۔اور یہ سچائی کا وصف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں اس حد تک پیدا کرنا چاہتے تھے کہ آپ نے ایک دفعہ ایک عورت کو اپنے بچے کو اپنے پاس یہ کہ کر بلانے پر کہ ادھر آؤ میں تمہیں ایک چیز دوں گی۔فرمایا کہ اگر تم اس کو کوئی چیز نہ دیتی تو یہ جھوٹ بولنے والی بات تھی۔اور پھر اس طرح بچہ بھی جھوٹ سیکھتا۔جھوٹ اور فتنہ پردازی سے پر ہیز کریں پس آپ جو نو جوان ہیں ہمیشہ یادرکھیں کہ ذراسی بھی غلط بیانی اگر خود کرتے ہیں یا جن کے چھوٹے بچے ہیں وہ اپنے بچوں کے سامنے کریں گے تو جھوٹ سکھانے والے بن جائیں گے۔پھر ایک بیماری ہے، زبان کے چسکے کے لئے مزے لینے کے لئے ہر سنی سنائی بات مجلسوں میں یا اپنے دوستوں میں بیان کرنے لگ