مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 34

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 34 ارشادات حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی قرآن کا ترجمہ اور پنجگانہ نماز کی پابندی پھر ہمیں جس زبان کو ہم سمجھ سکتے ہیں اُس زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ میسر آ گیا۔تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیں اور اس شکرانے کے طور پر اپنی جو پیدائش کا مقصد ہے اُس کو یاد رکھنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میری عبادت کرو۔یہ تمہارا مقصد ہے۔پانچ وقت جو نمازوں کا مقرر ہوا ہے، کوشش یہ کرنی چاہیے کہ اپنی نمازوں کی حفاظت کریں۔اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ جو لوگ نمازیں پڑھنے والے ہوں گے اور با قاعدہ نمازیں پڑھنے والے ہوں گے۔نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔سمجھ کر نمازیں پڑھنے والے ہوں گے، اُن کی میں ہر طرح سے حفاظت کروں گا اور وہ جو دنیا کی گندگیاں ہیں، بے حیائیاں ہیں ، لغویات ہیں، بے ہودگیاں ہیں ، ان سب سے بچا کے رکھوں گا۔تو اللہ تعالیٰ کے اس وعدے سے فائدہ اُٹھانا چاہیے ہم احمدی طلباء کو۔ہمارے باپ دادا کا بڑا احسان ہے ہم پر ، جو انہوں نے احمدیت کو قبول کیا تو اُس احسان کا بھی یہ تقاضا ہے اور اس احسان کا بدلہ ہم اسی صورت میں اتار سکتے ہیں، کہ جس دین کو انہوں نے مجھے سمجھ کر اختیار کیا اور حقیقت وہ صحیح دین بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی آخری شریعت بھی ہے اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے جو امام الزمان بنا کر بھیجا ہے مسیح و مہدی بنا کر بھیجا ہے ہماری ہدایت کے لئے ، ہماری اصلاح کے لئے ، اس کو بھی ماننے کا موقع مل گیا تو یہ تقاضا ہے اس چیز کا کہ ہم وہ نمونے قائم کریں جو ایک احمدی کو قائم کرنے چاہئیں۔اور جب آپ لوگ یہ نمونے قائم کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا خود وعدہ ہے، میں نے پہلے بھی بتایا ، اس معاشرے کی برائیوں سے، بے ہودگیوں سے، جن کا ذکر بھی رپورٹ میں کیا ہے آپ لوگ محفوظ رہیں گے۔لیکن اگر اپنی نمازوں کے حفاظت نہیں کریں گے ، قرآن کریم پڑھنے کی طرف توجہ نہیں دیں گے، اس بات کا احساس نہیں کریں گے کہ ہم احمدی ہیں اور احمدی طالب علم ، ایک احمدی شخص ، ایک احمدی لڑکا، ایک احمدی نوجوان کا اپنا ایک مقام ہے جس کو اُس نے قائم رکھنا ہے اور اُس کی بدنامی صرف اس کی ذات کی بدنامی نہیں ہے۔بلکہ جو ہر ملک میں، ہر معاشرے میں ایک احمدی کا تعارف ہے۔وہ جماعت احمدیہ کے نام سے ہے اور جماعت احمد یہ کو عموماً جہاں جہاں بھی ، جس علاقے میں، جس معاشرے میں، جس سوسائٹی میں بھی متعارف ہے جماعت احمدیہ۔وہاں ایک