مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 182
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 182 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی عبادات کا خلافت سے گہراتعلق ہے نمازوں کے حوالے سے ہی میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں ہمیشہ یاد رکھیں کہ خلافت کے ساتھ عبادت کا بڑا تعلق ہے۔اور عبادت کیا ہے؟ نماز ہی ہے۔جہاں مومنوں سے دلوں کی تسکین اور خلافت کا وعدہ ہے وہاں ساتھ ہی اگلی آیت میں اقِیمُوا الصَّلوة کا بھی حکم ہے۔پس تمکنت حاصل کرنے اور نظام خلافت سے فیض پانے کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نماز قائم کرو، کیونکہ عبادت اور نماز ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی ہوگی۔ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس انعام کے بعد اگر تم میرے شکر گزار بنتے ہوئے میری عبادت کی طرف توجہ نہیں دو گے تو نافرمانوں میں سے ہو گے۔پھر شکر گزاری نہیں ناشکر گزاری ہوگی اور نافرمانوں کے لئے خلافت کا وعدہ نہیں ہے بلکہ مومنوں کے لئے ہے۔پس یہ انتباہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اپنی نمازوں کی طرف توجہ نہیں دیتا کہ نظام خلافت کے فیض تم تک نہیں پہنچیں گے۔اگر نظام خلافت سے فیض پانا ہے تواللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرو کہ يَعْبُدُونَنِی یعنی میری عبادت کرو۔اس پر عمل کرنا ہوگا۔پس ہر احمدی کو یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا، جو خلافت کی صورت میں جاری ہے، فائدہ تب اٹھا سکیں گے جب اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔اہل ربوہ ایک نمونہ بنیں گزشتہ دنوں پاکستان سے آنے والے کسی شخص نے مجھے لکھا کہ میں ربوہ گیا تھا وہاں فجر اور عشاء پر ( بیوت الذکر ) میں حاضری بہت کم لگی۔یہ وہاں والوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔ربوہ تو ایک نمونہ ہے اور گزشتہ چند سالوں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس طرف بہت توجہ ہو گئی تھی۔آنے جانے والوں کی بھی بڑی رپورٹس آتی تھیں کہ ربوہ میں ( بیوت الذکر ) کی حاضری بڑھ گئی ہے بلکہ بازاروں میں بھی کاروبار کے اوقات میں دکانیں بند کر کے نمازیں ہوا کرتی تھیں۔گو کہ مجھے اس شخص کی بات پر اتنا یقین تو نہیں آیا۔میں تو ربوہ کے بارے میں حسن ظن ہی رکھتا ہوں لیکن اگر اس میں سستی پیدا ہورہی ہے تو وہاں کے رہنے والوں کو اس طرف خود توجہ کرنی چاہئے۔ایک کوشش جو آپ نے کی تھی ، نیکیوں کو اختیار کرنے کا جو ایک قدم بڑھایا تھا وہ قدم اب آگے بڑھتا چلا جانا چاہئے۔اللہ کرے کہ میرا حسن ظن ہمیشہ قائم رہے۔