مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 179
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 179 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خاوند کا شکوہ یا زیادہ سے زیادہ اگر سزا بھی دے گا تو یہ تو معمولی بات ہے۔یہ تو سب یہاں دنیا میں ہو جائیں گی لیکن یا درکھو تم جزا سزا کے دن بھی پوچھی جاؤ گی۔اور پھر اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا سلوک ہونا ہے۔اللہ ہر ایک پر رحم فرمائے۔اپنے پیشہ سے انصاف کریں اور پھر فرمایا ما لک کے مال کی نگرانی کے بارے میں بھی ہر شخص پوچھا جائے گا۔اس کی کچھ مثال تو میں نے پہلے دے دی ہے، ایک تو ظاہری طور پر جو کسی کی ذمہ داریاں ہیں اگر وہ ادا نہیں کر رہا تو مال کی نگرانی نہیں کر رہا۔ہر پیشہ کا آدمی اگر اپنے پیشہ سے انصاف نہیں کر رہا تو اس کے سپر دحکومت کی طرف سے یا جماعت کی طرف سے یا معاشرے کی طرف سے جو ذمہ داری کی گئی ہے اس نے اس کی ادائیگی نہیں کی اور وہ جہاں دنیاوی قانون اور قواعد کے لحاظ سے اس دنیا میں محکمانہ طور پر اس کا جوابدہ ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جوابدہ ہے۔یا پھر روحانی نظام میں، جماعت کے نظام میں عہدیداران اور بڑے پیمانے پر امام تک بات پہنچتی ہے کہ جماعت کے افراد جو اللہ کا مال ہیں ان کی تربیت کی طرف توجہ نہ دے کر صحیح طرح نگرانی نہیں کی اگر دنیاوی حکومتیں بھی یہ سمجھیں، دنیا کی نظر سے اگر دیکھیں تو ان کو بھی یہ احساس دلایا گیا ہے کہ جس مال کا بہترین مصرف بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رعایا کو، ملک کی آبادی کو تمہارے سپرد کیا تھا، ان کی ذمہ داریاں نہ نبھا کر، ان کے حقوق ادا نہ کر کے، ان کے تعلیمی اور دوسرے ترقیاتی مسائل پر توجہ نہ دے کر جو مالک کل ہے اس کی طرف سے ودیعت کردہ ذمہ داری کا حق ادا نہیں کیا۔اس لحاظ سے وہ بھی جوابدہ ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے احساس ذمہ داری کے ساتھ دعاؤں کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ سب کو ، ہر ایک کو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔الفضل انٹر نیشنل 27 را پریل تا 03 مئی 2007ء )