مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 167

167 ارشادات حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم کی سزا بھگتے گا۔یہی حال زانی ،شراب خور اور طرح طرح کے فسق و فجور میں بے قید زندگی بسر کرنے والوں کا ہے کہ ایک خاص وقت تک خدا کی شان ستاری ان کی پردہ پوشی کرتی ہے۔آخر وہ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور دکھوں میں مبتلا ہو کر ان کی زندگی تلخ ہو جاتی ہے اور یہ اس اُخروی دوزخ کی سزا کا نمونہ ہے۔اسی طرح سے جو لوگ سرگرمی سے نیکی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اور فرمانبرداری ان کی زندگی کا اعلیٰ فرض ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ ان کی نیکی کو بھی ضائع نہیں کرتا اور مقررہ وقت پر ان کی نیکی بھی پھل لاتی اور بار آور ہوکر دنیا میں ہی ان کے واسطے ایک نمونے کے طور پر مثالی جنت حاصل کر دیتی ہے۔غرض جتنے بھی بدیوں کا ارتکاب کرنے والے فاسق فاجر ، شراب خور اور زانی ہیں ان کو خدا کا اور روز جزا کا خیال آنا تو در کنار ، اسی دنیا میں ہی اپنی صحت ، تندرستی، عافیت اور اعلی قومی کھو بیٹھتے ہیں اور پھر بڑی حسرت اور مایوسی سے ان کو زندگی کے دن پورے کرنے پڑتے ہیں۔سل ، دق ، سکتہ اور رعشہ اور اور خطرناک امراض ان کے شامل حال ہوکر مرنے سے پہلے ہی مر رہتے اور آخر کا ر بے وقت اور قبل از وقت موت کا لقمہ بن جاتے ہیں“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 641-642 جدید ایڈیشن) شراب کے نقصانات اس زمانے میں دیکھیں کتنے ہیں جو ان غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے سزا بھگت رہے ہوتے ہیں۔بعض تو ان میں سے ایسے ہوتے ہیں، کوئی نہ کوئی ان میں نیکی کی رگ ہوتی ہے، جن کو خیال آ جاتا ہے، اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور اس دنیا کی سزا کے نمونے سے ہی عبرت حاصل کرتے ہیں اور تو بہ کرتے ہیں تو اخروی سزا سے بچ جاتے ہیں۔لیکن جو لوگ برائیوں پر اصرار کرنے والے ہیں انہیں ان برائیوں کا اصرار لے ڈوبتا ہے۔اپنی دنیا بھی خراب کرتے ہیں اور آخرت بھی خراب کرتے ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا شرابی ہیں، شراب کی وجہ سے اپنی طاقتیں ضائع کر دیتے ہیں، دماغی صلاحیتیں کھو دیتے ہیں۔یہ شراب پینے والے جب شراب پی رہے ہوتے ہیں ان کے دماغ کے ہزاروں لاکھوں خلیے اور سیل (Cell) ہیں جو ساتھ ساتھ ضائع ہو رہے ہوتے ہیں اور یہ سب اس لئے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنے والے ہیں۔ایڈز پھر اس زمانے میں جو ایڈز (Aids) کی بیماری ہے، یہ بھی بہت بڑی تباہی پھیلا رہی ہے۔جب انسان