مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 147
147 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم ( رفقاء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوشش کی ، ملک بدر ہوئے ، مالی نقصانات برداشت کرنے پڑے، جہاد کرنا پڑا، سب کچھ ہوا۔اور پھر ان قربانیوں کو ایسے پھل لگے کہ آج ہم دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔انہوں نے اپنے نفس کی بھی اصلاح کی ، اپنی برائیوں کو ترک کیا، نیکیوں کو اختیار کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو پہنچانے کے لئے اعلیٰ قربانیاں دیں۔پس ہم میں سے آج بھی وہی لوگ خوش قسمت ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے والے ہیں جو اس اصول کو سمجھے ہوئے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ جیسا کہ فرماتا ہے، وہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اگر ہم اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہوئے اس کے آگے جھکنے والے اور اس کے دین کی سر بلندی کے لئے قربانی اور کوشش کرنے والے ہوں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ پانے والے ہوں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی کوشش کو کبھی ضائع نہیں کرتا جو نیک نیتی سے اس کی خشیت دل میں رکھتے ہوئے اس کی خاطر کی جائے۔حضرت عمر کے زمانہ کا ایک معروف واقعہ یہاں سورۃ بقرہ کی جو یہ آیت ہے إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا وَجَهَدُوْا فِي سَبِيْلِ الله۔۔۔اس ضمن میں یاد آیا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بھی ایک حدیث کا واقعہ لکھا ہے لیکن مجھے اس سے خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ( رفقاء) کو بھی جماعت میں بہت مقام تھا اور جو ( رفقاء) کی اولاد ہیں، جب بھی کبھی کوئی تعارف کرانے لگے تو ضرور کراتے ہیں کہ میرے نانایا دادا ( رفیق) تھے۔تو یہ جو اُن کا ( رفیق) ہونا تھا یہ اُن اولادوں کو یہ احساس دلانے والا ہونا چاہئے کہ جس طرح اُنہوں نے اپنے نفس کو بھی کچلا، ہجرت کا حق بھی ادا کیا، اپنے گھر بار کو بھی چھوڑا ، قربانیاں بھی کیں۔اُس مقام کو ہم نے قائم رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔جس واقعہ کا میں ذکر کر رہا ہوں یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ حج پر گئے۔تو وہاں کچھ نوجوان جو بعد میں مسلمان ہوئے تھے، قریب بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی تشریف لائے ، حضرت عمرؓ نے ان نوجوانوں کو فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جاؤ کہ یہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔خیر وہ پیچھے ہٹ گئے تھوڑی دیر کے بعد ایک اور صحابی تشریف لائے ، حضرت عمر نے ان نو جوانوں کو پھر