مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 100
100 ارشادات حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم کے لئے کہتے ہیں۔لیکن ایک احمدی کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اولاد کی خواہش ہمیشہ اس دعا کے ساتھ کرنی چاہئے کہ نیک صالح اولا دہو جو دین کی خدمت کرنے والی ہو اور اعمال صالحہ بجالانے والی ہو۔اس کے لئے سب سے ضروری بات والدین کے لئے یہ ہے کہ وہ خود بھی اولاد کے لئے دعا کریں اور اپنی حالت پر بھی غور کریں۔بعض ایسے ہیں جب دعا کے لئے کہیں اور ان سے سوال کرو کہ کیا نمازوں کی طرف تمہاری توجہ ہوئی ہے، دعائیں کرتے ہو؟ تو پتہ چلتا ہے کہ جس طرح توجہ ہونی چاہئے اس طرح نہیں ہے۔میں اس طرف بھی کئی دفعہ توجہ دلا چکا ہوں کہ اولاد کی خواہش سے پہلے اور اگر اولاد ہے تو اس کی تربیت کے لئے اپنی حالت پر بھی غور کرنا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ جب اولاد سے نوازے یا جو او لا دموجود ہے وہ نیکیوں پر قدم مارنے والی ہو اور قرۃ العین ہو۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک دعا حضرت ذکریا کے حوالے سے ہمیں سکھائی ہے کہ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَاءِ ) سورة آل عمران: 39 ) کہ اے میرے رب مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ ذریت عطا کر یقینا تو بہت دعا سننے والا ہے۔ایسی پاک نسل عطا کر جو تیری رضا کی راہوں پر چلنے والی ہو۔اور جب انسان یہ دعا کر رہا ہو تو خود اپنی حالت پر بھی غور کر رہا ہوتا ہے کہ کیا میں ان سارے حکموں پر عمل کر رہا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیئے ہیں؟ پھر ایک جگہ حضرت ابراہیم کی اس دعا کا ذکر ہے، فرمایا رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِيْنَ (سورة الصفت : 101) اے میرے رب مجھے صالحین میں سے وارث عطا کر، مجھے نیک صالح اولا د عطا فرما۔پس جو والدین اولاد کے خواہش مند ہوں انہیں نیک اولاد کی خواہش کرنی چاہئے اور پھر اولاد کی تربیت بھی اس کے مطابق ہو اور جیسا کہ میں نے کہا اولاد کی تربیت کے لئے سب سے پہلے اپنے نمونے قائم کرنے چاہئیں۔واقفین نو کے والدین کا فرض واقفین نو بچوں کے جو والدین ہیں انہیں خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے جس انعام سے نوازا تھا اس نے تو قربانی کا بھی اعلی معیار قائم کر دیا۔پس جو والدین اپنے بچوں کو وقف نو میں شامل کرتے ہیں انہیں خصوصاً اور دوسروں کو بھی، عام طور پر ہر احمدی کو دعا کرتے رہنا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول کرتے ہوئے انہیں ایسی اولاد سے نوازے جو حقیقت میں دین کی خادم بنے والی ہو، جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں کو تلاش کرنے والی ہواور صالحین میں شمار ہو۔