مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 66
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 66 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ دسواں حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت ( دین حق ) اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہوگا۔اس طرح آپ نے مالی قربانی کا ایک ایسا اہم نظام جاری فرمایا جو آپ کے ماننے والوں کے لیے تزکیہ نفس کا بھی ذریعہ ہو۔اس سے اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت بھی ہو اور حقوق العباد کے سامان بھی ہوں۔جیسا کہ آپ نے فرمایا: ان اموال میں ان یتیموں اور مسکینوں اور ( نو مبایعین ) کا بھی حق ہو گا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں۔“ (الوصیت ) آپ نے اپنی جماعت کے افراد کو اس مالی نظام میں شامل ہونے کی یوں تلقین فرمائی کہ تم اس وصیت کی تکمیل میں میرا ہاتھ بٹاؤ۔وہ قادر خدا جس نے پیدا کیا ہے دنیا اور آخرت کی مرادیں دے دے گا۔پھر آپ نے فرمایا: بلاؤں کے دن نزدیک ہیں اور ایک سخت زلزلہ جو زمین کو تہہ و بالا کر دے گا قریب ہے۔پس وہ جو معائنہ عذاب سے پہلے اپنا تارک الدنیا ہونا ثابت کر دیں گے اور نیز یہ ثابت کر دیں گے کہ کس طرح انہوں نے میرے حکم کی تعمیل کی خدا کے نزدیک حقیقی مومن وہی ہیں اور اس کے دفتر میں سابقین اولین لکھے جائیں گے میں یہ نہیں چاہتا کہ تم سے کوئی مال لوں اور اپنے قبضہ میں کرلوں بلکہ تم اشاعت دین کے لیے ایک انجمن کے حوالے اپنا مال کرو گے اور بہشتی زندگی پاؤ گے۔“ نیز فرمایا۔خدا کی رضا کو تم کسی طرح پاہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر، اپنی لذات چھوڑ کر، اپنی عزت چھوڑ کر، اپنا مال چھوڑ کر، اپنی جان چھوڑ کر اس کی راہ میں وہ تلخی نہ اٹھا لو گے ( یعنی اس نظام وصیت میں شامل ہو جاؤ گے اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی دل و جان سے کوشش کرتے رہو گے ) تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آجاؤ گے اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے، ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اس کی طرف دنیا کو توجہ نہیں۔وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ان کے