مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 24
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 24 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جاوے۔(شہادۃ القرآن۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 355) پس اس کے بعد کوئی وجہ نہیں رہ جاتی کہ ہم ان بحثوں میں پڑیں کہ خلافت کب تک رہنی ہے اور کب ملوکیت میں بدل جاتی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ نیک اعمال کرنے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور خلافت کا سلسلہ ہمیشہ چلتا چلا جائے گا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بداندیشی نہیں کہ اسلام کو مردہ مذہب خیال کیا جاوے اور برکات کو صرف قرن اول تک محدود رکھا جائے۔شروع سالوں تک جو اسلام کے ابتدائی سال تھے ان تک محد و در کھا جائے۔اسی طرح یہ بھی بداندیشی ہے کہ یہ کہا جائے کہ پہلی چار خلافتوں کے مقابل پر چار خلافتیں آگئیں اور بس۔اللہ تعالیٰ میں صرف اتنی قدرت تھی کہ پہلی خلافت راشدہ کے عرصہ کو تقریباً تین گنا کر کے خلافت کے انعام سے نوازے اور اس کے بعد اس کی طاقتیں ختم ہو گئیں۔انا للہ۔اور جیسا کہ میں حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس سے دکھا آیا ہوں کہ اگر کسی کی ایسی سوچ ہے تو غلط ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے ہاں تم میں سے ہر ایک اپنے عملوں کی فکر کرے۔چند شبہات کا ازالہ اب میں مختصراً ان صاحب کی طرف آتا ہوں جنہوں نے بڑی ہوشیاری سے مضمون پھیلا کر بعض لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اپنی طرف سے ایسے لوگوں کو آلۂ کار بنانے کی کوشش کی ہے جو شاید اس سوچ میں پڑ جائیں لیکن انہیں پتہ نہیں کہ جماعت کی اکثریت خلافت سے بچی وفا اور محبت رکھنے والی ہے اور وہ جن کو یہ مضمون بھجوائے گئے ہیں انہوں نے نظام کو یا مجھے اس سے آگاہ کر دیا، ہمیں بھجوادیے۔شیطان نے ایک چال چلی تھی لیکن وہ ناکام ہو گیا۔لیکن جماعت کو بتانا میرا فرض ہے کہ وہ آئندہ محتاط رہیں۔ان صاحب نے حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی اس بات کو انڈر لائن کیا ہے کہ کسی نبی کے بعد خلافت متصلہ کا سلسلہ دائمی طور پر نہیں چلتا بلکہ صرف اس وقت تک چلتا ہے جب تک کہ خدا تعالیٰ نبوت کے کام کی تکمیل کے لئے ضروری خیال فرمائے اور اس کے بعد ملوکیت کا دور آ جاتا ہے یعنی تسلسل قائم نہیں رہتا۔ایک کے بعد دوسرا خلیفہ نہیں آتا۔روحانی طور پر سلسلہ ختم ہو جائے گا۔لیکن یہاں بھی واضح ہو کہ کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مشن تھا مکمل ہو گیا ہے؟ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ حضرت میاں صاحب