مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page iii of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page iii

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم ii ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اطاعت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ مزید فرماتے ہیں:- اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔مگر ہاں یہ شرط ہے کے سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد دوم صفحہ 246) جب کوئی شخص بیعت کر کے الہی جماعت میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ اس نے اپنے نفس کو بیچ دیا ہے۔اب وہ اپنے ہوائے نفس کی پیروی نہیں کرے گا بلکہ اپنے تمام ارادوں اور خواہشات کو امام کے تابع کر دے گا۔یہی معنی اطاعت کا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعو دفرماتے ہیں:۔یا درکھو ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔ہزار دفہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعود پر ایمان لاتا ہوں، ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتا ہوں۔خدا کے حضور اس کے ان دعوؤں کی کوئی قیمت نہیں ہوگی جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں ( دین حق ) قائم کرنا چاہتا ہے۔جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ بسر نہیں کرتا اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہو سکتا۔الفضل 15 نومبر 1946 صفحہ 6) اللہ تعالیٰ نے عبادات میں سب سے زیادہ زور نماز با جماعت پر دیا ہے۔اس میں کیا حکمت ہے؟ دن میں پانچ مرتبہ تمام مقتدیوں کو اپنے امام کے ساتھ رکوع و سجود کا حکم دیا گیا ہے۔گویا توحید کے عملی قیام کی تربیت دی گئی ہے، ایک آواز پر اٹھنے اور بیٹھنے کی ٹریننگ دی گئی ہے۔جمعہ اور عید کے موقع پر تمام چھوٹی (بیوت الذکر ) کے امام بھی جمعہ اور عید کے امام کی اقتداء میں رکوع و سجود کرتے ہیں۔اس طرح سے اللہ تعالیٰ ہماری تربیت کر رہا ہے کہ تم نے ایک امام کی پیروی کرنی ہے اور مسیح موعود کے وقت جب