مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 200 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 200

200 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم فرض ہے کہ اس بات کی نگرانی کریں اور اس پر نظر رکھیں کہ اس فیصلے پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں ہورہا اور اس طریق کے مطابق ہو رہا ہے جوطریق وضع کر کے خلیفہ وقت سے اس کی منظوری حاصل کی گئی تھی۔یا بعض جماعتوں میں جا کر بعض فیصلے عہد یدار ان کی سستیوں یا مصلحتوں کا شکار ہورہے ہیں۔اگر تو ایسی صورت ہے تو ہر نمائندہ یا تو شوری اپنے علاقے میں ذمہ دار ہے کہ اس پر عملدرآمد کروانے کی کوشش کرے اپنے عہدیداران کو توجہ پر دلائے ، جیسا کہ میں نے کہا کہ ان کے معاون کی حیثیت سے کام کرے۔ایک کافی بڑی تعداد عہدیداران کی نمائندہ شوری بھی ہوتی ہے۔وہ اگر کسی فیصلے پر عمل ہوتا نہیں دیکھتے تو اپنی عاملہ میں اس معاملے کو پیش کر کے اس پر توجہ دلائیں۔نمائندگان شوریٰ چاہے وہ انتظامی عہدیدار ہیں یا عہد یدار نہیں ہیں اگر اس سوچ کے ساتھ کئے گئے فیصلوں کی نگرانی نہیں کرتے اور وقتا فوقتا مجلس عاملہ میں نتائج کے حاصل ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ نہیں لیتے تو ایسے نمائندگان اپنا حق امانت ادا نہیں کر رہے ہوتے۔اور اگر یہاں اس دنیا میں یا نظام جماعت کے سامنے،خلیفہ وقت کے سامنے اگر بہانے بنا کر بچ بھی جائیں گے تو اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ ضرور پوچھے جائیں گے جو اپنی امانتوں کا حق ادا نہیں کرتے۔پس اس اعزاز کو کسی تفاخر کا ذریعہ نہ سمجھیں۔بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اگر با وجود توجہ دلانے کے پھر بھی مجلس عاملہ یا عہدیداران توجہ نہیں دیتے اور اپنے دوسرے پروگراموں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور شوریٰ کے فیصلوں کو درازوں میں بند کیا ہوا ہے، فائلوں میں رکھا ہوا ہے تو پھر نمائندگان شوری کا یہ کام ہے کہ مجھے اطلاع دیں۔اگر مجھے اطلاع نہیں دیتے تو پھر بھی امانت کا حق ادا کرنے والے نہیں ہیں، بلکہ اس وجہ سے مجرم بھی ہیں۔جب بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے، کسی رنجش کی بنا پر کوئی فرد جماعت اگر کوئی خط لکھتا ہے تو پھر جب بات سامنے آتی ہے اور جب بعض کاموں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، یا تحقیق کی جاتی ہے تو پھر یہی عہدیداران اور نمائندگان لمبی لمبی کہانیوں کا ایک دفتر کھول دیتے ہیں۔امانت کی ادائیگی کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب کوئی غلط بات پاستی دیکھی تو فورا اطلاع کی جاتی۔اور اگر مقامی سطح پر یہ باتیں حل نہیں ہو رہی تھیں تو اُس وقت آپ باتیں پہنچاتے۔جماعت کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کا یہ ایک مسلسل عمل ہے۔بعض لوگ اس خوف سے کہ ہم پر ذمہ داری نہ آ پڑے ذمہ داری سے بچنے کے لئے خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں۔تو اگر اپنا جائزہ لینے کی ، اپنا محاسبہ کرنے