مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 172

172 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصه سوم آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا یہ پیغام گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، اس ملک میں بھی اور پاکستان میں بھی اس کے پھیلانے کا کام وقف جدید کے سپرد ہے۔پس ہر احمدی کو اپنے نفس کو پاک کرنے کے لئے مالی قربانی کا فعال حصہ بننا چاہئے۔چاہے نئے آنے والے ہیں یا پرانے احمدی ہیں۔اگر مالی قربانیوں کی روح پیدا نہیں ہوتی تو ایمان کی جو مضبوطی ہے وہ پیدا نہیں ہوتی۔کوئی یہ نہ دیکھے کہ معمولی تو فیق ہے، غریب آدمی ہوں اس رقم سے کیا فائدہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کے جذبے اور خلوص سے دیئے ہوئے ایک پیسے کی بھی بڑی قدر ہوتی ہے۔۔۔ہر جگہ مربی یا معلم ہونا چاہیے۔۔۔پھر جہاں لوگ مالی قربانیاں دیں وہاں جو معلمین اور (مربیان) ہیں وہ اپنی پوری پوری استعدادوں کو استعمال کریں۔یہاں ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی اور دوسری جگہوں پر بھی۔جیسا کہ میں نے کہا یہ تصور ہماری انتظامیہ کے ذہن میں بھی کئی جگہ پر آ گیا ہے۔جماعتی عہد یداران کے اندر بھی موجود ہے کہ ہمارے، مربیان کی ہمعلمین کی جو تعداد ہے وہ کافی ہے۔یہ سی نہیں ہے۔اب زمانہ ہے کہ ہر گاؤں میں، ہر قصبہ میں اور ہر شہر میں اور وہاں کی ہر ( بیت الذکر) میں ہمارا مربی اور معلم ہونا چاہئے۔اب اس کے لئے بہر حال جماعت کو مالی قربانیاں کرنی پڑیں گی تبھی ہم مہیا کر سکتے ہیں۔پھر جماعت کے افراد کو اپنی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اپنے بچوں کی قربانیاں کرنی پڑیں گی کہ ان کو اس کام کے لئے پیش کریں، وقف کریں۔اور یہ سب ایسے ہونے چاہئیں کہ وہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر بھی قائم ہوں۔ہم نے صرف آدمی نہیں بٹھانے بلکہ تقویٰ پر قائم آدمیوں کی ضرورت ہے۔آئندہ سالوں میں انشاء اللہ واقفین نو بھی میدان عمل میں آجائیں گے لیکن جو ان کی تعداد ہے وہ بھی یہ ضرورت پوری نہیں کر سکتے۔یہ کام وسیع طور پر ہمیں کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آدمیوں کی ضرورت بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اللہ تعالیٰ تقویٰ پر چلنے والے مربیان اور معلمین ہمیں مہیا فرما تار ہے۔۔۔۔الفضل انٹر نیشنل 27 جنوری تا 02 فروری 2006ء)