مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 138
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 138 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔ہمسایوں سے نیک سلوک کریں۔۔۔پھر ہمسایوں سے چاہے ان کو جانتے ہو یا نہیں جانتے نیک سلوک کرو۔اس کا حکم ہے۔عموماً رمضان میں نیکیاں کرنے کی طرف طبیعت ذرا مائل ہوتی ہے۔بہت سے آپس کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔تو اس نیکی کو عید کے دن خاص طور پر پہلے سے بڑھ کر جاری کرنا چاہئے اور پھر اس نیکی کو مستقل اپنا لینا چاہئے۔جو تعلقات ٹوٹے ہوئے ہیں، بگڑے ہوئے ہیں ان کو بحال کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود نے جو ہمسائے کی تعریف کی ہے وہ اتنی وسیع ہے کہ آپ کی تعریف کے مطابق کوئی اس سے باہر رہ ہی نہیں سکتا۔فرمایا کہ سوکوس تک یعنی سو میل تک بھی تمہارے ہمسائے ہیں۔اس لحاظ سے تو کوئی بھی کسی احمدی سے بے فیض نہیں رہ سکتا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساتھیوں میں سے وہ ساتھی اچھا ہے جو اپنے ساتھیوں کے لئے اچھا ہے۔اور پڑوسیوں میں سے وہ پڑوسی اچھا ہے جو اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے۔کسی نے پوچھا کہ مجھے کس طرح پتہ چلے کہ میں اچھا پڑوی ہوں یا نہیں۔تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پڑوسی تمہاری تعریف کریں تو سمجھ لو کہ تم اچھے پڑوسی ہو۔اگر وہ تمہاری برائیاں کر رہے ہوں تو پھر سمجھ لو کہ تم برے پڑوسی ہو۔عورتیں پڑوسیوں سے حقارت آمیز سلوک نہ کریں پھر آپ نے خاص طور پر عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی عورت اپنی پڑوسن سے حقارت آمیز سلوک نہ کرے۔اب یہ عورتوں کا خاص ذکر کیوں ہے؟ یہ بھی اس لئے کہ عورتوں میں عموماً تفاخر اور تکبر زیادہ ہوتا ہے۔اپنی نیکی یا پیسے یا اور چیز جو پاس ہو اور دوسرے کے پاس نہ ہواس کا اظہار زیادہ ہوتا ہے۔مثلاً زیور کپڑے وغیرہ ہی ہیں۔فرمایا کہ: عورتیں دوسری عورتوں پر جو ان سے مالی لحاظ سے کمزور ہیں ان سے حقارت آمیز سلوک نہ کریں۔بلکہ اپنے اس رویے کو بہتر کرنے کے لئے تھے بھیجو، چاہے چھوٹی سے چھوٹی سے چیز ہی ہو۔حدیث میں ہے چاہے بکری کا پایہ ہی ہو۔اس سے تمہارے اندر دوسرے کے لئے حقارت کا جذبہ بھی کم ہوگا۔تم بھی دین میں اس کو اپنی بہن سمجھو گی۔تمہارے دل میں انسانیت کے ناطے اس کے لئے ایک عزت قائم ہوگی