مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 130
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 130 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبه جمعه فرموده 21اکتوبر 2005ء سے اقتباسات * تلاوت قرآن کریم کے سنہرے اصول اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فجر کے وقت کی تلاوت کی اہمیت بیان فرمائی ہے کہ {وَقُرْآنَ الْفَجْر } اور قرآن اور فجر کی تلاوت کو اہمیت دو۔اور پھر فرمایا {اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا } (بى اسرائیل: 79) کہ یقینا فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اس کی گواہی دی جاتی ہے۔پس یہ صبح کے وقت کی تلاوتیں ہر مومن کے لئے گواہ بن رہی ہوں گی۔لیکن کیا صرف پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ہماری دنیا و آخرت سنوار نے کے لئے اور ہمارے حق میں گواہی دینے کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں بلکہ جو تلاوت کی ہے اس کا سمجھنا بھی ضروری ہے۔تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ کوفرمایا تھا میں نے ضمنا پہلے بھی ذکر کیا تھا لیکن تفصیلی حدیث یہ ہے۔آپ نے فرمایا: قرآن کریم کی تلاوت ایک ماہ میں مکمل کیا کرو۔( بخاری کتاب فضائل القرآن باب في كم يقرا القرآن) تا کہ آہستہ آہستہ جب پڑھو گے، غور کرو گے، سمجھو گے تو گہرائی میں جا کر اس کے مختلف معانی تم پر ظاہر ہوں گے۔لیکن جب انہوں نے کہا کہ میرے پاس وقت بھی ہے اور اس بات کی استعدا دبھی رکھتا ہوں کہ زیادہ پڑھ سکوں تو آپ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے پھر ایک ہفتہ میں ایک دور مکمل کر لیا کرو اس سے زیادہ نہیں۔تو آپ صحابہ کو سمجھانا چاہتے تھے کہ صرف تلاوت کر لینا، پڑھ لینا کافی نہیں ہے۔انسان جلدی جلدی پڑھنا شروع کرے تو دس گیارہ گھنٹے میں پورا قرآن پڑھ سکتا ہے لیکن اس میں سمجھ خاک بھی نہیں آئے گی۔بعض تراویح پڑھنے والے حفاظ اتنا تیز پڑھتے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا الفاظ پڑھ رہے ہیں۔جماعت میں تو میرے خیال میں اتنا تیز پڑھنے والا شاید کوئی نہ ہو لیکن غیر از جماعت کی مساجد میں تو 18-20 منٹ میں یا زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے میں ایک پارہ بھی پڑھ لیتے ہیں اور دس گیارہ رکعت نفل بھی پڑھ لیتے ہیں۔