مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 115
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 115 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی لاکھوں واقفین نو چاہئیں۔اب تک تو واقفین نو کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن جس طرح جماعت کی تعداد بڑھ رہی ہے اور جس طرح والدین کی اس طرف توجہ پیدا ہورہی ہے، انشاء اللہ تعالیٰ لاکھوں کی تعداد ہو جائے گی۔اور پھر ظاہر ہے کہ ہر ملک میں جامعہ احمد یہ کھولنا پڑے گا۔اور یہ انشا اللہ تعالیٰ ایک دن ہوگا۔جامعہ احمدیہ کا طرہ امتیاز حضورانور نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ جو طلبا مختلف ممالک سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں آئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت آئے ہیں کہ دین کا علم حاصل کرو۔آپ اس گروہ میں شامل ہوئے ہیں جنہوں نے دوسروں کو دین سکھانے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام دنیا میں پہنچانے کا عہد کیا ہے،اس کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہے۔دنیا میں بہت سے مسلمان فرقوں اور حکومتوں نے دینی علم سکھانے کے لئے مدارس کھولے ہوئے ہیں جن کو بہت زیادہ فنڈز بھی مہیا ہوتے ہیں ، بہت ساری سہولتیں بھی میسر ہیں جو جماعت احمدیہ کے لحاظ سے جہاں بھی جامعہ احمدیہ ہیں وہاں مہیا نہیں کی جاسکتیں۔اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہاں جہاں بھی یہ دینی علم دیا جاتا ہے ان کو کافی علم ہوتا ہے۔جو بھی علم ہے حضرت مسیح موعود کی آمد سے پہلے تفسیر کا، حدیث کا ، فقہ کا، وہ سب ان کے پاس ہے۔ہندوستان میں بھی ایک مدرسہ قائم ہے دارالعلوم دیو بند میں۔بڑے بڑے علماء وہاں سے نکلے۔پھر الا زھر یو نیورسٹی ہے۔جامعتہ الازھر بھی ایک بہت بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔لیکن یہ تمام ادارے اور ان میں تعلیم حاصل کر کے باہر آنے والے باوجود اس کے کہ وہ سب دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس لحاظ سے بے علم اور بدقسمت ہیں کہ وہ اس زمانے کے امام کو نہیں پہچان سکے۔آنحضرت ﷺ کے ارشاد کو سمجھنے کا اُن کو ہم وادراک حاصل نہیں ہو سکا۔بجائے اس کے کہ علم ان کے دل و دماغ کو روشن کرتا ، ان میں عاجزی پیدا کرتا، اس علم نے ان میں تکبر پیدا کیا جس کی وجہ سے انہوں نے نہ صرف یہ کہ زمانے کے امام کو پہنچانا نہیں بلکہ اکثریت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بڑی غلیظ زبان بھی استعمال کی اور اپنے آپ کو علمی لحاظ سے بہت بلند سمجھا۔اس زمانے کے حکم اور عدل کو، آنحضرت ﷺ کے روحانی فرزند کو ماننے سے انکار کیا۔لیکن آپ لوگ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جن کے والدین کو آبا ؤ اجداد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی توفیق ملی۔اور پھر اس پر یقین میں اس حد تک بڑھے کہ خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے بچوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں پیش کر دیا۔اور اللہ تعالیٰ کے