مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 74
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 74 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کتاب قرآن کریم، جو احکامات اور نصائح سے پُر ہے۔جس کے حکموں پر سچے دل سے عمل کرنے والا خدا تعالیٰ کا قرب پانے والا بن جاتا ہے۔وہ رسی تھی نبی کریم ﷺ کی ذات کہ آپ کے ہر حکم پر قربان ہونے کے لیے صحابہ ہر وقت منتظر رہتے تھے۔ان صحابہ نے اپنی زندگی کا یہ مقصد بنالیا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات سے باہر نہیں نکلنا۔اور پھر آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کے پہلے چار خلفاء جو خلفاء راشدین کہلاتے ہیں، خلفاء، ان کے توسط سے مسلمانوں نے اُس ریشی کو پکڑا جو اللہ کی رسّی اور اس کی طرف لے جانے والی ریتی تھی۔اور جب تک مسلمانوں نے اس رستی کو پکڑے رکھا وہ صحیح راستے پر چلتے رہے۔اور جب فتنہ پردازوں نے ان میں پھوٹ ڈال دی اور انہوں نے فتنہ پردازوں کی باتوں میں آکر اس ریشی کو کاٹنے کی کوشش کی تو ان کی طاقت جاتی رہی۔مسلمانوں کو وقتا فوقتا مختلف جگہوں میں اس کے بعد کامیابیاں تو ملتی رہیں لیکن اجتماعی قوت اور رعب جو تھا وہ جاتا رہا۔وہ قوت جو تھی وہ پارہ پارہ ہوگئی۔آپس میں بھی لڑائیاں ہوئیں۔ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوا۔اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا انکار کیا تھا۔۔۔۔رسول کریم آخری صاحب شریعت نبی لیکن کیونکہ خدا تعالیٰ جس نے آنحضرت ﷺ کو آخری شرعی نبی بنا کر دنیا میں بھیجا تھا اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق آپ کی شریعت نے رہتی دنیا تک نہ صرف قائم رہنا تھا بلکہ پھیلنا تھا۔اپنے وعدے کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ان عملوں کی وجہ سے اس دین کو صفحہ ہستی سے مٹا تو نہیں دینا تھا۔مسلمانوں کے بگڑنے کی وجہ سے اور ناشکری کی وجہ سے جو ایسی حرکتوں کے منطقی نتائج نکلتے ہیں اور نکلنے چاہئیں وہ تو نکلے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا آنحضرت ﷺ سے یہ بھی وعدہ تھا کہ آخرین میں سے تیری امت میں سے تیری لائی ہوئی شریعت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے میں مسیح و مہدی کو مبعوث کروں گا تا کہ پھر وہ احکامات لاگو ہوں ، تاکہ پھر اللہ کی ریتی کی قدر کا احساس پیدا ہو، تاکہ پھر اس مسیح و مہدی کو ماننے والے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ سکیں۔اس آیت کے آخر میں جو یہ فرمایا ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ شاید تم ہدایت پا جاؤ۔یہ مسلمانوں کو پھر ایک حکم ہے، ایک وارننگ ہے کہ اللہ کے احکامات پر عمل کرو،