مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 73
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 73 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبه جمعه فرمودہ 26 /اگست 2005ء سے اقتباسات * وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ الله لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (سورة آل عمران آیت نمبر 104) اس کا ترجمہ ہے کہ: اور اللہ کی رسی کو سب کے سب مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور پھر اس کی نعمت سے تم بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ شاید تم ہدایت پا جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں بیشمار احکامات دے کر ان پر عمل کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس کے ترجمہ میں جیسا کہ میں نے ابھی پڑھا ہے۔ہم دیکھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ایک ہو کر رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ یہ اللہ کی رشتی تم پر ایک انعام ہے۔اللہ کی اس رہتی کو پکڑنے کی وجہ سے تم پر اللہ کے فضل نازل ہوئے اور اس کے انعاموں سے تم نے حصہ پایا۔تمہارے معاشرے کے تعلقات بھی خوشگوار ہوئے اور تمہاری آپس کی رشتہ داریوں میں بھی مضبوطی پیدا ہوئی۔قرآن کریم اور رسول کریم اللہ حبل اللہ ہیں ہم سب جانتے ہیں کہ وہ رشی کون سی تھی یا کون سی ہے جس کو پکڑ کر ان میں اتنی روحانی اور اخلاقی طاقت پیدا ہوئی، قربانی کا مادہ پیدا ہوا، قربانی کے اعلیٰ معیار قائم ہوئے۔جس نے ان میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے انہیں اس حد تک اعلیٰ قربانیاں کرنے کے قابل بنادیا۔وہ رہتی تھی اللہ تعالیٰ کی آخری شرعی