مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 46
46 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو یہ نیکیاں اختیار کریں۔آج عہد کریں کہ ہم نے نیکی کے نمونے قائم کرنے ہیں۔اپنی بیویوں کے قصور معاف کرنے ہیں۔اور جولڑ کی والے ہیں زیادتی کرنے والے، وہ عہد کریں کہ لڑکوں کے قصور معاف کرنے ہیں۔تو ان جھگڑوں کی وجہ سے جو مختلف خاندانوں میں، معاشرے میں جو تلخیاں ہیں وہ دور ہو سکتی ہیں۔اگر ایسی چیز میں ختم کر دیں اگر ان عائلی جھگڑوں میں ، میاں بیوی کے جھگڑوں میں علیحدگی تک بھی نوبت آ گئی ہے تو ابھی سے دعا کرتے ہوئے ، اس نیک ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دعاؤں پر زور دیتے ہوئے ، ان پھٹے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کریں۔اور اسی طرح بعض اور وجوہ کی وجہ سے معاشرے میں تلخیاں پیدا ہوتی ہیں۔جھوٹی اناؤں کی وجہ سے جو نفرتیں معاشرے میں پنپ رہی ہیں یا پیدا ہورہی ہیں ان کو دور کریں۔ایک دوسرے کی غلطیوں اور زیادتیوں اور کوتاہیوں سے پردہ پوشی کو اختیار کریں۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ان کی برائیاں مشہور کرنے کی بجائے پردہ پوشی کا راستہ اختیار کریں۔ہر ایک کو اپنی برائیوں پر نظر رکھنی چاہئے۔اللہ کا خوف کرنا چاہئے۔عہد یدار عبادتوں اور اخلاق میں نمونہ بنیں للہ تعالیٰ نے اگر کسی کو موقع دیا ہے کہ وہ جماعتی عہد یدار بنایا گیا ہے اس پر خدا کا شکر کریں، نہ کہ اس وجہ سے گردنیں اکٹر جائیں اور تکبر اور رعونت پیدا ہو جائے۔جماعتی عہد یداران کو اپنی عبادتوں میں بھی اور اعلیٰ اخلاق میں بھی ایک نمونہ ہونا چاہیئے۔عاجزی اور انکساری کے بھی اعلیٰ معیار قائم کرنے چاہئیں۔عدل اور انصاف کے بھی تمام تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔پس جہاں ایک عام احمدی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرے، صبر سے کام لے، ایک دوسرے کے قصوروں کو معاف کرنے کی عادت ڈالے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق جماعت کا فرد بنے تا کہ دشمن کے ہنسی ٹھٹھا سے بھی بچے۔کیونکہ جب احمدی اتنے دعووں کے بعد ایسی غلطیاں کرتا ہے تو دشمن کے لئے جماعت پر انگلیاں اٹھانے کا باعث بنتا ہے، مخالفین کے لئے جماعت پر انگلیاں اٹھانے کا باعث بنتا ہے۔اور کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی غیرت رکھتا ہے ایسی حرکتوں کی وجہ سے وہ احمدی جس نے دشمن کو ہنسی کا موقع دیا اللہ تعالیٰ کے قرب سے گر جاتا ہے۔تو جب ایک عام احمدی کی ایسی حرکتوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا تو جو عہد یدار ہیں وہ تو پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں زیادہ ہیں۔اس لئے ان کو اور زیادہ استغفار کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو