مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 43

43 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم دلوں سے نکال کر باہر پھینکیں۔اور ان دنوں میں عبادتوں کے ساتھ ساتھ محبتیں بانٹنے کی بھی ٹریننگ حاصل کریں۔یہ عہد کریں کہ پرانی رنجشوں کو مٹا دیں گے۔ایک دوسرے کے گلے اس نیت سے لگیں کہ پرانی رنجشوں کا ذکر نہیں کرنا۔ایک دوسرے سے کی گئی زیادتیوں کو بھول جانا ہے۔کسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرنی بلکہ حقیقی مومن بن کر رہنا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی گئی عبادتیں بھی قبولیت کا درجہ پائیں۔اور اللہ کی خاطر اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے کی گئی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگیاں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا درجہ پا ئیں۔میاں بیوی کے معاملات میں تعلمی کی وجوہات مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کینیڈا میں بڑی تیزی کے ساتھ شادیوں کے بعد میاں بیوی کے معاملات میں تلخیاں پیدا ہو رہی ہیں۔اور میرے خیال میں اس میں زیادہ قصور لڑکے، لڑکی کے ماں باپ کا ہوتا ہے۔ذرا بھی ان میں برداشت کا مادہ نہیں ہوتا۔یا کوشش یہ ہوتی ہے کہ لڑکے کے والدین بعض اوقات یہ کر رہے ہوتے ہیں کہ بیوی کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ (Understanding) نہ ہو۔اور ان کا آپس میں اعتماد پیدا نہ ہونے دیا جائے کہ کہیں لڑکا ہاتھ سے نہ نکل جائے۔یا پھر اس لئے بھی رشتے ٹوٹتے ہیں کہ بعض پاکستان سے آنے والے لڑکے، باہر آنے کے لئے رشتے طے کر لیتے ہیں اور یہاں پہنچ کر پھر رشتے توڑ دیتے ہیں۔کچھ بھی ایسے لوگوں کو خوف نہیں ہے۔ان لڑکوں کو کچھ تو خدا کا خوف کرنا چاہئے۔ان لوگوں نے ، جن کے ساتھ آپ کے رشتے طے ہوئے ، آپ پر احسان کیا ہے کہ باہر آنے کا موقع دیا تعلیمی قابلیت تمہاری کچھ نہیں تھی۔ایجنٹ کے ذریعے سے آتے تو 15 - 20 لاکھ روپیہ خرچ ہوتا۔مفت میں یہاں آگئے۔کیونکہ اکثر یہاں آنے والے لڑکے ٹکٹ کا خرچہ بھی لڑکی والوں سے لے لیتے ہیں۔تو یہاں آ کر پھر یہ چالاکیاں دکھاتے ہیں۔یہاں آکر رشتے تو ڑ کر کوئی اپنی مرضی کا رشتہ تلاش کر لیتا ہے یا پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق بعض رشتے ہو جاتے ہیں۔اور بعض دوسری بیہودگی میں پڑ جاتے ہیں۔اور پھر ایسے لڑکوں کے ماں باپ بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے ہیں، چاہے وہ یہاں رہنے والے ہیں یا پاکستان میں رہنے والے ماں باپ ہیں۔پھر بعض مائیں ہیں جو لڑکیوں کو خراب کرتی ہیں اور لڑکے سے مختلف مطالبے لڑکی کے ذریعے کرواتی ہیں۔کچھ خدا کا خوف کرنا چاہئے ایسے لوگوں کو۔پھر بعض لڑکے لڑکیوں کی جائیدادوں کے چکر میں ہوتے