مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 27

27 مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ گئی ہے اور پیشگوئی صرف ایک وقت کے متعلق ہوتی ہے۔سب اوقات کے متعلق نہیں ہوتی۔یہ امر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت نے ہونا تھا اور خلافت کے بعد حکومت مستبد ہ نے ہونا تھا اور ایسا ہی ہو گیا۔اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر مامور کے بعد ایسا ہی ہوا کرے گا۔قرآن کریم میں جہاں خلافت کا ذکر ہے وہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خلافت ایک انعام ہے۔پس جب تک کوئی قوم اس انعام کی مستحق رہتی ہے وہ انعام اسے ملتا رہے گا۔پس جہاں تک مسئلہ اور قانون کا سوال ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہر نبی کے بعد خلافت ہوتی ہے اور وہ خلافت اس وقت تک چلتی چلی جاتی ہے جب تک کوئی قوم خود ہی اپنے آپ کو خلافت کے انعام سے محروم نہ کر دے۔لیکن اس اصل سے ہرگز یہ بات نہیں نکلتی کہ خلافت کا مٹ جانا لازمی ہے۔حضرت عیسی کی خلافت اب تک چلی آ رہی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم کہتے ہیں کہ پوپ صحیح معنوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کا خلیفہ نہیں لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی تو مانتے ہیں کہ امت عیسوی بھی صحیح معنوں میں مسیح کی امت نہیں۔پس جیسے کو تیسا تو ملا ہے مگر ضرور ہے بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے موسیٰ کے بعد ان کی خلافت عارضی رہی لیکن حضرت عیسی کے بعد ان کی خلافت کسی نہ کسی شکل میں ہزاروں سال تک قائم رہی۔اس طرح گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت محمد یہ تو اتر کے رنگ میں عارضی رہی لیکن مسیح محمدی کی خلافت مسیح موسوی کی طرح ایک غیر معین عر صے تک چلتی چلی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مسئلے پر بار بار زور دیا ہے کہ مسیح محمدی کو مسیح موسوی کے ساتھ ان تمام امور میں مشابہت حاصل ہے جو امور کی تعمیل اور خوبی پر دلالت کرتے ہیں۔سوائے ان امور کے جن سے بعض ابتلاء ملے ہوتے ہیں۔ان میں علاقہ محمد بیت، علاقہ موسویت پر غالب آ جاتا ہے اور نیک تبدیلی پیدا کر دیتا ہے۔جیسا کہ مسیح اول صلیب پر لٹکایا گیا لیکن مسیح ثانی صلیب پر نہیں لٹکایا گیا۔کیونکہ مسیح اول کے پیچھے موسوی طاقت تھی اور مسیح ثانی کے پیچھے محمدی طاقت تھی۔خلافت چونکہ انعام ہے۔ابتلاء نہیں۔اس لئے اس سے بہتر چیز تو احمدیت میں آ سکتی ہے جو کہ مسیح اول کو ملی لیکن وہ ان نعمتوں سے محروم نہیں رہ سکتی جو کہ مسیح اول کی امت کو ملیں۔کیونکہ مسیح اول کی پشت پر موسوی برکات تھیں اور مسیح ثانی کی پشت پر محمدی برکات ہیں۔پس جہاں میرے نزدیک یہ بحث نہ صرف یہ کہ بیکار ہے بلکہ خطرناک ہے کہ ہم خلافت کے عرصے سے متعلق بحثیں شروع کر دیں وہاں یہ امر ظاہر ہے کہ سلسلہ احمدیہ میں خلافت ایک بہت لمبے عرصے تک چلے گی جس کا قیاس بھی اس وقت نہیں کیا جاسکتا۔( یعنی اس لمبے عرصے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا یہ کہاں تک ہے؟ ) اور اگر خدانخواستہ بیچ میں کوئی وقفہ پڑے بھی تو وہ حقیقی وقفہ نہیں ہوگا