مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 26
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 26 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بعد کی نسلیں تمہیں محبت اور فخر کے ساتھ یاد کریں، اور تمہیں احمدیت کے معماروں میں یاد کریں نہ کہ خانہ خرابوں میں۔خلافت ملوکیت میں نہیں بدلے گی بہر حال یہ بتا دوں کہ جب یہ مضمون شائع ہوا تھا۔جیسا کہ میں نے شروع میں یہ ذکر کیا تھا کہ حضرت خلیفة امسیح الثانی نے اس کا جواب بھی لکھا تھا۔تو میرے والد صاحب صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے حضرت خلیفہ المسح الثانی کی خدمت میں لکھا تھا کہ حضرت میاں صاحب کا جو یہ مضمون ہے اس میں جو ملوکیت والا حصہ ہے اس سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود کی تحریرات اور بعض الہامات سے تو یہ ثابت نہیں ہوتا۔ضمناً بتا دوں کہ یہ خط جو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی خدمت میں میرے والد صاحب نے لکھا تھا وہ خط بھی میں نے پڑھا ہوا ہے۔پرانے کاغذات ایک دن میں دیکھ رہا تھا ان میں سے مجھے مل گیا۔اور اس میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا نوٹ بھی تھا کہ تمہارا خیال ٹھیک ہے۔( کیونکہ اس کو پڑھے ہوئے کافی دیر ہوگئی ) مجھے یاد پڑتا ہے آپ نے یہ بھی لکھا تھا کہ احمدیت کی خلافت ملوکیت میں نہیں بدلے گی۔بہر حال پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے الفضل میں ایک پیغام شائع کروایا جو میں پڑھ دیتا ہوں تا کہ جن ذہنوں میں غلط فہمی ہے وہ دور ہو جائے۔اور یہ بھی اتفاق کہہ لیں، جیسے میں نے بتادیا، یا الہی تقدیر کہ میرے والد صاحب کے ذریعہ ہی اُس وقت خلیفہ وقت کو اس طرف توجہ پیدا ہوئی اور آپ نے وضاحت فرمائی۔حضرت خلیفہ السیح الثانی کا تبصرہ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ : " عزیزم مرزا منصور احمد نے میری توجہ ایک مضمون کی طرف پھیری ہے جو مرزا بشیر احمد صاحب نے خلافت کے متعلق شائع کیا ہے۔اور لکھا ہے کہ غالبا اس مضمون میں ایک پہلو کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی جس میں مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ تحریر کیا ہے کہ خلافت کا دور ایک حدیث کے مطابق عارضی اور وقتی ہے۔میں نے اس خط سے پہلے یہ مضمون نہیں پڑھا تھا۔اس خط کی بنا پر میں نے اس مضمون کا وہ حصہ نکال کر سنا تو میں نے بھی سمجھا کہ اس میں صحیح حقیقت خلافت کے بارے میں پیش نہیں کی گئی۔مرز ابشیر احمد صاحب نے جس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ خلافت کے بعد حکومت ہوتی ہے۔اس حدیث میں قانون نہیں بیان کیا گیا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے حالات کے متعلق پیشگوئی کی