مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 25
25 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم کا اپنا نظریہ تھا اور اس بارے میں ایک دو اور جگہ اس مضمون میں جو میں نے الفاظ پڑھے ہیں اس سے ملتے جلتے الفاظ ہیں لیکن یہ صاحب حضرت میاں صاحب کے اُسی مضمون میں یہ الفاظ بھی پڑھ لیں کہ بچے خلفاء کی علامات کیا ہیں۔آپ اس بارہ میں لکھتے ہیں کہ پہلی اور ظاہری علامت یہ ہے کہ مومنوں کی جماعت کسی شخص کو اتفاق رائے یا کثرت رائے سے خلیفہ منتخب کرے۔انتخاب خلافت خامسہ کے وقت خدائی تحریک اب یہ صاحب بتائیں کہ کیا خلافت خامسہ کے انتخاب میں یہ نہیں ہوا۔مجلس انتخاب میں تو بہت سے ایسے ممبران تھے جو مجھے جانتے بھی نہیں تھے لیکن الہی تقدیر کے ماتحت انہوں نے میرے حق میں رائے دی اور اکثر نے یہ کہا کہ ہمارے دل میں یہ خدائی تحریک پیدا ہوئی ہے۔اور اس بات کی وضاحت بھی حضرت میاں صاحب نے مضمون میں کی ہوئی ہے۔بہر حال میں میاں صاحب کے حوالوں سے اس لئے بات کر رہا ہوں کہ ان کے مضمون میں ہی جواب موجود ہیں۔اور یہ بھی کہ تم جلد بازی نہ کرو۔پھر آپ لکھتے ہیں۔دوسری علامت یہ ہے جو باطنی علامتوں میں سے ہونے کی وجہ سے کسی قد رغور اور مطالعہ چاہتی ہے۔وہ ہے قرآن شریف کی آیت استخلاف یعنی {وَلَيْمَكِنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا } کہ اور ان کے لئے ان کے دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ضرور تمکنت عطا کرے گا اور ان کے خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔آپ لکھتے ہیں کہ ہر خلیفہ کی وفات کے بعد عموماً جماعت میں ایک زلزلہ وارد ہوتا ہے۔جماعت کے لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ایسے وقت میں خدا کی سنت ہے کہ وہ اپنے مقرر کردہ خلیفہ کے ذریعہ انہیں اطمینان اور تمکنت عطا فرماتا ہے۔اب آپ میں سے ہر کوئی گواہ ہے بلکہ دنیا کا ہر احمدی گواہ ہے، ہر بچہ گواہ ہے کہ کیا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ للہ تعالیٰ کی وفات کے بعد جو ایک خوف کی حالت تھی اسے اللہ تعالیٰ نے سکینت میں نہیں بدل دیا ؟ اگر ان صاحب کے لئے یہ دلیل کافی نہیں تو اللہ ہی رحم کرے۔اور تیسری علامت حضرت میاں صاحب نے اپنی ذوقی علامت بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی رنگ میں نبی پر ظاہر کر دیتا ہے کہ کون آئندہ ہونا ہے۔بہر حال اس کا تعلق تو نبی سے ہے۔ضروری نہیں کہ ہر جگہ نبی کی طرف سے اظہار بھی ہو۔تو ان صاحب سے میں حضرت میاں صاحب کے الفاظ میں یہی کہتا ہوں کہ اس زمانے کی قدر کو پہچانو اور اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے نیک نمونہ چھوڑو تا کہ