مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 11
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 11 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ جمعہ فرمود 0 13 مئی 2005 ء سے اقتباسات متقی کے مال میں برکت کا اصل مفہوم * اللہ تعالیٰ اپنے در پر آنے والوں اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے متعلق یہ بھی فرماتا ہے کہ میں ان کے رزق میں بھی برکت ڈالتا ہوں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بے تحاشا مال ہونا بھی رزق میں برکت ہے۔ٹھیک ہے اگر کسی نیک آدمی کے پاس مال ہے تو یہ اُس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس سے وہ اپنے ساتھ اپنے بھائیوں کی ضرورتیں بھی پوری کرتا ہے۔لیکن یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی مال میں برکت اس طرح بھی ڈالتا ہے کہ ایک بندے کو بہت سی لغویات اور گناہوں سے بچا کر رکھتا ہے۔مثلاً جوا، شراب، زنا وغیرہ سے بچایا ہوا ہے۔اور اسی رقم سے جہاں ایک احمدی اپنے بیوی بچوں کے خرچ بھی برداشت کرتا ہے اور چندے بھی دیتا ہے وہاں اتنی رقم سے لغویات اور گناہوں میں مبتلا شخص کے گھر میں ہر وقت دنگا فساد اور بے برکتی ہی رہتی ہے اور غلاظت اور پھٹکار ہی ہر وقت ایسے گھروں میں پڑی رہتی ہے۔غرض ایک برکت جو ایک متقی کے پیسے میں ہے وہ غیر متقی کے پیسے میں نہیں۔پھر ضروریات زندگی کے لئے اللہ تعالیٰ بعض دفعہ متقی شخص کے لئے ایسے ذرائع سے رقم کا انتظام کر دیتا ہے جو اس کے وہم و خیال میں بھی نہیں ہوتا۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔{وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبْ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ } (الطلاق:4) یعنی متقی کو اللہ تعالیٰ وہاں سے رزق دے گا جہاں سے رزق آنے کا اس کو خیال بھی نہیں ہوگا۔اور جو کوئی اللہ پر تو کل کرتا ہے اللہ اس کے لئے کافی ہے۔تو جب اس حد تک تقویٰ بڑھ جائے گا کہ انسان اس پر تو کل کرتے ہوئے غیر اللہ کے سامنے نہ جھکے تو پھر وہ خدا تعالیٰ کے دینے کے نظارے بھی دیکھتا ہے۔دنیادار بیچارے کو یہی فکر رہتی ہے کہ کہیں ان کا پیسہ ضائع نہ ہو جائے۔آج کل مختلف قسم کی بیماریاں بھی ایسے لوگوں کو ہیں جو عموما متقیوں کو نہیں ہوتیں۔متقی انسان کو اگر کوئی فکر ہوتی ہے تو وہ اس غم میں گھلتا ہے کہ