مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 201
201 مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہر عہد یدار کو ہر نمائندہ شوریٰ کو عادت ہوگی اور یہ خیال ہو گا کہ مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے خلیفہ وقت کو مشورہ دینے کے لئے چنا گیا ہے اور پھر تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے مشورہ دینے کے بعد میری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ میں یہ جائزہ لیتا ہوں کہ کس حد تک ان فیصلوں پر عمل ہوا ہے یا ہو رہا ہے تو مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے کاموں میں ایک واضح تبدیلی پیدا ہوگی۔جیسا کہ میں نے کہا یہ ایک مسلسل عمل ہے کام کرنے کا اور جائزے لیتے رہنے کا۔تبھی ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔اور جماعتوں میں ایک واضح بیداری پیدا ہوگی اور نظر آ رہی ہوگی۔فیصلوں کے بعد عملدرآمد میں سستی کا مظاہرہ اب اس دفعہ بھی پاکستان کی شوریٰ میں پیش کرنے کے لئے جماعتوں نے بعض تجویزیں رکھیں اور یہ دوسرے ملکوں میں بھی ہوتا ہے لیکن ان تجویزوں کو انجمن یا ملکی مجلس عاملہ شوری میں پیش کرنے کی سفارش نہیں کرتی کہ یہ تجویز گزشتہ سال یا دو سال پہلے شوریٰ میں پیش ہو چکی ہے اور حسب قواعد تجویز تین سال سے پہلے شوری میں پیش نہیں ہوسکتی۔تو اس تجویز کے آنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کم از کم اس جماعت میں جس کی طرف سے یہ تجویز آئی ہے وہاں اس فیصلے پر جو ایک سال یا دو سال پہلے ہوا تھا، شوری نے کیا تھا اور پھر منظوری لی تھی، اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔اور یہ بات واضح طور پر اس جماعت کے عہد یداران اور نمائندگان شوری کی سنتی اور نا اہلی ثابت کرتی ہے۔اور یہ واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ خود ہی کسی کام کو کرنے کے بارے میں ایک رائے قائم کر کے اور پھر اس پر آخری فیصلہ خلیفہ وقت سے لینے کے بعد اس فیصلے کو جماعت نے کوئی اہمیت نہیں دی۔یہ ستی صرف اس لئے ہے کہ جس طرح ان معاملات کا پیچھا کرنا چاہئے ، مرکز نے بھی پیچھا نہیں کیا، نظارتوں نے بھی پیچھا نہیں کیا یاملکی سطح پرملکی عاملہ پیچھا نہیں کرتی۔ترجیحات اور اور رہیں۔اس طرح مرکزی عہدیداران بھی جب یہ توجہ نہیں دے رہے ہوتے تو وہ بھی اپنی امانت کا حق ادا نہیں کر رہے ہوتے۔اس کے لئے مرکزی عہدیداران کو بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور مقامی جماعت کے عہد یداران اور نمائندگان شوری کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور جائزہ لینا ہوگا اور وجوہات تلاش کرنی ہوں گی کہ کیوں سال دو سال پہلے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ملکی انتظامیہ کی طرف سے یا انجمنوں کی طرف سے اس بنا پر کہ تھوڑا عرصہ پہلے کوئی تجویز پیش ہوچکی ہے ، پیش نہ کئے جانے کی سفارش آتی