مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 158 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 158

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 158 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بھی دو۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ عورت کا حق ہے۔اسے دینا چاہئے اول تو نکاح کے وقت ہی ادا کرے ورنہ بعد ازاں ادا کر دینا چاہئے۔پنجاب اور ہندوستان میں یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر ، یعنی عورتوں کی یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر ، خاوند کو اپنامہر بخش دیتی ہیں۔یہ صرف رواج ہے۔(فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 148) ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک (رفیق) نے عرض کیا کہ میری بیوی نے مجھے مہر بخش دیا ہے، معاف کر دیا ہے۔تو آپ نے فرمایا تم نے اس کے ہاتھ پر رکھا تھا۔انہوں نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا جاؤ پہلے ہاتھ پر رکھو پھر اگر وہ بخش دے، معاف کر دے تو پھر ٹھیک ہے۔تو جب واپس آئے کہتے ہیں میں نے تو اس کے ہاتھ پر رکھا اور وہ دینے سے انکاری ہے۔فرمایا یہی طریقہ ہے، اصل طریقہ بھی یہی ہے پہلے ہاتھ پر رکھو پھر معاف کرواؤ۔اس لئے جو کوشش کرتے ہیں ناں مقدمہ لانے سے پہلے کہ جو ہم نے یہ کہہ دیا وہ کہہ دیا ان کو سوچنا چاہئے۔حق مہر کے متعلق ایک فتویٰ اور پھر اسی ضمن میں ایک اور بات بھی بیان کر دوں کیونکہ کل ہی بنگلہ دیش سے ایک نے خط لکھ کر پوچھا تھا کہ میری بیوی فوت ہو گئی ہے اور مہر میں نے ادا نہیں کیا تھا تو ایسی صورت میں اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔تو اسی قسم کا ایک سوال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش ہوا تھا کہ میری بیوی فوت ہوگئی ہے میں نے نہ مہر اس کو دیا ہے نہ بخشوایا ہے۔اب کیا کروں۔تو آپ نے فتویٰ دیا، فرمایا کہ مہر اس کا ترکہ ہے اور آپ کے نام قرض ہے۔آپ کو ادا کرنا چاہئے اور اس کی یہ صورت ہے کہ شرعی حصص کے مطابق اس کے دوسرے مال کے ساتھ تقسیم کیا جاوے۔جس میں ایک حصہ خاوند کا بھی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے نام پر صدقہ دیا جاوے۔(فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 148) یورپ میں حق مہر کے متعلق ہدایت تو بعض لوگ جو یہ سمجھتے ہیں یہاں یورپ میں بعض دفعہ ایسے جھگڑے آ جاتے ہیں کہ ملکی قانون جو ہے وہ حقوق دلوا دیتا ہے طلاق کی صورت میں وہ کافی ہے حق مہر نہیں دینا چاہئے۔ایک تو یہ ہے کہ وہ حقوق بعض دفعہ اگر بچے ہوں تو بچوں کے ہوتے ہیں۔دوسرے کچھ حد تک اگر بیوی کے ہوں بھی تو وہ ایک وقت تک کے لئے