مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 109 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 109

109 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم ہے اس سے بیچ رہے ہوں گے، اس سے رک رہے ہوں گے تو ایک پاک معاشرہ بھی قائم کر رہے ہوں گے۔عبادتوں کے معیاروں کے ساتھ ساتھ آپ کے اخلاق کے معیار بھی بلند ہور ہے ہوں گے۔آپس کی رنجشیں دور کرنے کی بھی کوشش ہور ہی ہوگی۔جھوٹی اناؤں اور عزتوں سے بھی بچ رہے ہوں گے۔تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بھی آپ کوشش کر رہے ہوں گے۔تقویٰ سے عاری علم کی اللہ کوکوئی پرواہ نہیں اگر ایک شخص بظاہر نمازیں پڑھنے والا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں احکامات دیئے ہیں ان پر عمل نہیں کر رہا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایسے نمازیوں کی نمازوں کو ان کے منہ پر مارتا ہے۔یہی نمازیں ہیں جو نمازیوں کے لئے لعنت بن جاتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان عبادتوں کا ذکر کیا ہے جو تقویٰ میں بڑھاتی ہیں۔اور تقویٰ بڑھتا ہے ان احکامات پر عمل کرنے سے جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں۔جن کی تعداد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پانچ سو یا سات سو بتائی ہے۔اور آپ نے فرمایا کہ جوان حکموں پر عمل نہیں کرتا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پس یہ ہوشیاری یا چالا کی کسی کام نہیں آئے گی۔بعض لوگوں کو اپنی علمیت پہ بڑا نا ز ہوتا ہے اور دوسروں کے علم کا استہزاء کر رہے ہوتے ہیں۔یاکسی اور بات کا بڑا فخر ہے اس پر استہزاء ہورہا ہوتا ہے مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں۔تو چاہے وہ قرآن کریم کا علم ہو یا کوئی اورعلم ہو کیونکہ یہ علم جو ہے یہ تقویٰ سے عاری ہوتا ہے اس لئے اس علم کی بھی اللہ تعالی کو کوئی پرواہ نہیں جو اس نے حاصل کیا ہے۔بے فائدہ علم ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ان احکامات پر عمل کرو۔اگر صرف پڑھ لیا دوسروں کو بتا دیا اور خود عمل نہ کیا تو ایسے لوگوں کو قرآن ہدایت نہیں دیتا۔ہدایت بھی تقویٰ کے ساتھ مشروط ہے اور عبادت کرنے کا بھی اس لئے حکم دیا تا کہ تم تقویٰ میں ترقی کرو۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ تقویٰ کے حصول کے لئے عبادت کرے اور تقویٰ کے حصول کے لئے ہی قرآن کریم پڑھے اور پڑھائے ، قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے والا بنے۔نرمی اور پیار سے بات کیا کریں اب مثلاً قرآن کریم کا ایک حکم آپس میں محبت اور پیار کی فضا پیدا کرنا ہے اور دوسروں کو اچھی بات کہنا ہے، نرمی اور پیار سے بات کرنا ہے۔چھتی ہوئی اور کڑوی بات نہ کرنے کا حکم ہے جس سے دوسروں کے