مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 45

45 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم ہیں لیکن (اکثر صورتوں میں بیویوں پر ظلم ہورہا ہوتا ہے) لیکن خداتعالی کو دھوکا نہیں دے سکتے۔اکثر یہی دیکھنے میں آیا ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ مرد عورت کو دھوکا دیتے ہیں۔لڑکیاں بھی بعض اس زمرے میں شامل ہیں لیکن ان کی نسبت بہت کم ہے۔اور پھر عہدیدار بھی غلط طور پر مردوں کی طرفداری کی کوشش کرتے ہیں۔عہد یداروں کو بھی میں یہی کہتا ہوں کہ اپنے رویوں کو بدلیں۔اللہ نے اگر ان کو خدمت کا موقع دیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔یہ نہ ہو کہ ایسے تقویٰ سے عاری عہدیداروں کے خلاف بھی مجھے تعزیری کارروائی کرنی پڑے۔مرد کو اللہ تعالیٰ نے قوام بنایا ہے، اس میں برداشت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔اس کے اعصاب زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔اگر چھوٹی موٹی غلطیاں، کوتاہیاں ہو بھی جاتی ہیں تو ان کو معاف کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک رفیق کا واقعہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں ایک (رفیق) کی اپنی بیوی سے سختی کی باتوں کا ذکر ہورہا تھا۔جو ( رفقاء) پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس بات پر اس قدر رنج اور غصہ تھا کہ ہم نے کبھی ایسی حالت میں آپ کو نہیں دیکھا۔ایک اور ( رفیق ) اس مجلس میں بیٹھے تھے جو اپنی بیوی سے اسی طرح سختی سے پیش آیا کرتے تھے، ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے تھے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ حالت دیکھ کر اس مجلس سے اٹھے، بازار گئے ، بیوی کے لئے کچھ تحفے تحائف لئے اور گھر جا کر اپنی بیوی کے سامنے رکھے اور بڑے پیار سے اس سے باتیں کرنے لگے۔بیوی حیران پریشان تھی کہ آج ان کو ہو کیا گیا ہے۔یہ کا یا کس طرح پلٹ گئی ، اس طرح نرمی سے باتیں کر رہے ہیں۔آخر ہمت کر کے پوچھ ہی لیا، پہلے تو جرات نہیں پڑتی تھی۔کہنے لگے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بیویوں پرسختی کرنے کی وجہ سے بہت غصے کی حالت میں دیکھا ہے۔اس سے پہلے کہ میری شکایت ہوئیں اپنی حالت بدلتا ہوں۔تو دیکھیں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ نمونہ بنیں۔ان (رفیق) نے فوراً تو بہ کی اور نمونہ بنے کی کوشش کی۔آج آپ میں سے اکثریت بھی جو یہاں بیٹھی ہوئی ہے یا کم از کم کافی تعداد میں یہاں لوگ ایسے ہیں جو ان ( رفقاء) کی اولاد میں سے ہیں جنہوں نے بیعت کے بعد نمونہ بنے کی کوشش کی اور بنے۔آپ بھی اگر اخلاص کا تعلق رکھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں داخل