مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 42
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 42 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ میرا انعام پانے والے لوگ ہیں۔پس یہ سب سے بنیادی چیز ہے جس کی ٹرینینگ اور جس کے کرنے کا عزم آپ نے ان جلسے کے دنوں میں کرنا ہے۔جو نمازوں میں کمزور ہیں انہوں نے ان دنوں میں اس کا حق ادا کرتے ہوئے اس میں با قاعدگی اور پابندی اختیار کرنے کی کوشش کرنی ہے۔نماز وقت مقررہ پر ادا کریں لیکن یہ بات واضح ہو کہ ان دنوں میں جلسے کی وجہ سے یا میرے دورہ کی وجہ سے، دوسری مصروفیات کی وجہ سے چند دنوں کے لئے نمازیں جمع کر کے پڑھائی جاتی ہیں۔تو بچوں کے ذہنوں میں یا نو جوانوں کے ذہنوں میں یا بعض ست لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات نہ رہ جائے کہ یہ نمازیں جمع کر کے پڑھنا ہی ہماری زندگی کا مستقل حصہ ہے بلکہ جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ نمازیں وقت مقررہ پر ادا کرو تو اس کے مطابق ادا ہونی چاہئیں۔سوائے اس کے کہ مسافر ہوں یا دوسری جائز ضرورت ہو، جس طرح مثلاً آج کل یہاں بعض شہروں میں سورج سوا نو بجے یا ساڑھے نو بجے یا بعض جگہ پونے دس بجے غروب ہوتا ہے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھالی جاتی ہیں۔لیکن جب وقت بدل جائیں گے تو پھر وقت پر ادا ہونی چاہئیں۔تو بہر حال دین میں آسانی ہے اس لئے سہولت میسر ہے لیکن فکر کے ساتھ نمازیں ادا کرنا بہر حال ضروری ہے۔اور یہ ہمیشہ ذہن میں ہونا چاہئے کہ یہ آسانی دنیا داری یا ستی کی وجہ سے نہ ہو۔عبادتوں کے ساتھ ساتھ محبتیں بانٹنا بھی سیکھیں۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کے بعد آپ ہی وہ قوم ہیں جن پر دنیا کی اصلاح کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔اس لئے اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعوی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کی خواہش ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی چاہتے ہیں تو پھر اللہ کی مخلوق سے محبت بھی اس کی محبت حاصل کرنے کے لئے اور اپنے انجام بخیر کے لئے اور اس کے سایہ رحمت میں جگہ پانے کے لئے کرنی ہوگی۔اور جلسے کے یہ دن اس بات کی طرف توجہ پیدا کرنے کے لئے ٹرینگ کے طور پر ہیں۔اس کی ابتدا آج سے ہی ہو جانی چاہئے۔آج سے ہی ہر دل میں یہ ارادہ ہونا چاہئے کہ ہم نے اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں، اپنے معیار اونچے کرنے ہیں۔جو ناراض ہیں وہ ایک دوسرے کو گلے لگا ئیں، جو روٹھے ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے کو منائیں۔جنہوں نے گلے شکوے دلوں میں بٹھائے ہوئے ہیں وہ ان گلوں شکووں کو اپنے