مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 40

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 40 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جون 2005ء سے اقتباسات * نمازوں کی حفاظت کی طرف توجہ کریں میں نے بعض دفعہ ملاقاتوں میں جائزہ لیا ہے کہ نمازوں کی طرف با قاعدگی سے متعلق اگر پوچھو کہ توجہ ہے کہ نہیں تو اکثر یہ جواب ہوتا ہے کہ کوشش کرتے ہیں یا پھر کوئی گول مول سا جواب دے دیتے ہیں۔حالانکہ نمازوں کے بارے میں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز کو قائم کرو۔باجماعت ادا کرو۔اور نماز کو وقت مقررہ پر ادا کرو۔جیسا کہ فرمایا {إِنَّ الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتبًا مَّوْقُوْتًا } (النساء:104) - یقیناً نماز مومنوں پر وقت مقررہ کی پابندی کے ساتھ فرض ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: دو میں طبعاً اور فطرتا اس کو پسند کرتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اور نماز مَوْقُوتَہ کے مسئلہ کو بہت ہی عزیز رکھتا ہوں“۔(الحکم جلد نمبر 6 نمبر 35 مورخہ یکم اکتوبر 1902ء صفحہ 14۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد نمبر 2 صفحہ 264)۔ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو وقت مقررہ تو علیحدہ رہا، نمازوں میں اکثر ستی کر جاتے ہیں۔کیا ایسا کر کے ہم اس حکم پر عمل کر رہے ہیں کہ حفظوا على الصَّلَواتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطَى وَقُوْمُوْا لِلَّهِ قَنِتِينَ } (البقرة:239 ) تو نمازوں کا اور خصوصاً درمیانی نماز کا پورا خیال رکھو۔اور اللہ کے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔پس ہر احمدی کو اپنی نمازوں کی حفاظت کی طرف توجہ دینی چاہئے اور انہیں وقت مقررہ پر ادا کرنا چاہئے۔اگر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں لے کر آنا ہے، اگر تو حید کو قائم کرنے کا دعویٰ کرنے والا بنا ہے تو اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے ہوں گے۔اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنی ہوگی۔کاموں کے عذر کی وجہ سے دو پہر کی یا ظہر کی نماز اگر آپ چھوڑتے ہیں تو نمازوں کی حفاظت کرنے والے نہیں کہلا سکتے۔بلکہ خدا کے