مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 216

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 216 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبه جمعه فرموده 14 را پریل 2006ء سے اقتباس * آسٹریلیا کا نظام وصیت میں ایک اعزاز اللہ تعالی کے فضل سے دسمبر 2005ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نظام وصیت کو جاری ہوئے 100 سال پورے ہو گئے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا اور 2004 ء کے جلسہ UK میں میں نے تحریک کی تھی کہ 2005ء میں 100 سال پورے ہوں گے تو کم از کم 50 ہزار مومیان ہونے چاہئیں۔تو جیسا کہ میں جلسہ سالا نہ قادیان میں اعلان کر چکا ہوں کہ اللہ کے فضل سے یہ تعداد پوری ہو چکی ہے بلکہ اس تعداد سے بہت آگے جاچکے ہیں۔اب تو جماعتیں اپنا اگلا ٹارگٹ پورا کرنے کی کوشش میں ہیں۔لیکن یہاں آپ لوگوں کی دلچسپی کے لئے میں جو بات بتانے لگا ہوں وہ یہ ہے کہ یہاں کی جو تاریخ مرتب ہوئی ہے اس کے مطابق حضرت صوفی صاحب ( مراد حضرت صوفی حسن موسیٰ خان صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ بیرون ہندوستان نظام وصیت میں شامل ہونے والے اولین موصی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب وصیت کا اعلان فرمایا تو اس کے تین مہینے کے بعد ہی انہوں نے وصیت کر دی تھی اور اس طرح آپ کی وصیت مارچ 1906 ء کی ہے۔پھر اس لحاظ سے اس ملک میں یعنی اس بر اعظم ( آسٹریلیا ) میں نظام وصیت کے پہلے پھل کو بھی 100 سال ہو گئے ہیں۔یہ اپریل کا مہینہ ہے۔صرف ایک مہینہ ہی اوپر ہوا ہے۔حضرت صوفی صاحب نے یقیناً ایک تڑپ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس دروازے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔اور یقیناً یہ کامیاب کوشش تھی، کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انجام بخیر ہونے کی خبر الہاما دی تھی۔اور آپ یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے بھی وارث بنے جو آپ نے اس نظام میں شامل ہونے والوں کے لئے کی ہیں اور بے شمار دعائیں ہیں جو آپ نے کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ تقوی میں ترقی دے،