مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 205
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم رائے سوچ سمجھ کر دیں 205 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ایک بات میں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں ، شوری کے ممبران کے لئے دوبارہ یاددہانی کروارہا ہوں کہ شوری کی بحث کے دوران جب اپنی رائے دینا چاہتے ہیں تو رائے دینے سے پہلے اس تجویز کے سارے اچھے اور برے پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے اپنی رائے دیں نہ کہ کسی دوسرے رائے دینے والے کے فقرہ کو اٹھا کر جوش میں آجائیں۔سمجھ بوجھ رکھنے والی شرط بھی اسی لئے رکھی گئی ہے کہ ہوش وحواس میں رہتے ہوئے رائے دیں۔اور دوسری بات یہ کہ اظہار رائے کے وقت کسی کے جوش خطابت سے متاثر ہو کر اس طرف نہ جھک جائیں۔یا اپنی کسی پسندیدہ شخصیت کی رائے سن کر اس پر صاد نہ کر دیں، اس کی بات نہ مان لیں۔بلکہ رائے کو پرکھیں اور اگر معمولی اختلاف ہو تو بلا وجہ کج بحثی کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن اگر واضح فرق ہو، آپ کے پاس زیادہ مضبوط دلیلیں ہوں یا دوسرے کی دلیل زیادہ اچھی ہو تو ضروری نہیں وہاں کسی رائے دینے والے سے تعلق کا اظہار کیا جائے۔خلیفہ وقت کا دست و بازو بن کر عملدرآمد میں جت جائیں بہر حال آخر میں پھر یہی کہتا ہوں کہ جب شوری میں بحثوں کے بعد آپ ایک رائے قائم کر لیتے ہیں اور اس پر خلیفہ وقت کا فیصلہ لے لیتے ہیں چاہے وہ آپ لوگوں کی رائے مان لینے کی صورت میں ہو یا کسی تبدیلی کے ساتھ فیصلہ کرنے کی صورت میں۔جب یہ جماعتوں کو عملدرآمد کے لئے بھجوا دیا جاتا ہے تو امانت کا حق اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ خلیفہ وقت کا دست و بازو بن کر اس پر عملدرآمد میں جت جائیں ، نہ سستیاں دکھائیں اور نہ تو جیہیں نکالنے کی کوشش کریں۔اگر اس طرح کریں گے تو پھر آپ کے فیصلوں میں کبھی برکت نہیں پڑے گی۔اور عہدیداران کی دوسری باتیں بھی بے برکت ہو جائیں گی۔پھر میں کہتا ہوں کہ اپنی ذمہ داریوں کے احساس کو اجاگر کریں، اس کو سمجھیں اور خدا سے مدد مانگتے ہوئے شوری کے دنوں میں اپنے اجلاس کے اوقات میں بھی اور فارغ اوقات میں بھی دعاؤں میں گزاریں۔اور جب اپنی جماعت میں جائیں تو وہاں بھی آپ میں اس تبدیلی کا اثر مستقل نظر آتا ہو۔یاد رکھیں کہ ہوشیاری ، چالا کی یا علم سے نہ احمدیت کا غلبہ ہوتا ہے، نہ کوئی انقلاب آتا ہے۔اگر دنیا میں کوئی تبدیلی پیدا ہونی ہے تو وہ دعاؤں سے اور تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے ہونی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والی ہوگی۔