مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 203 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 203

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 203 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ دینے کے بارے میں ہو، یا بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہو یا خلیفہ وقت سے تعلق اور اطاعت کے بارے میں ہو۔اس لئے نمائندگان اور عہدیداران کو اس لحاظ سے بھی اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ وہ کس حد تک اپنی عبادتوں کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔جیسا کہ میں بتا آیا ہوں کہ عبادت ایک بنیادی چیز ہے جس کو نمائندگی دیتے ہوئے مد نظر رکھنا چاہئے اور ایک عام مسلمان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ عبادت گزار ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس دین میں عبادت نہیں وہ دین ہی نہیں ہے۔تو ایک عام احمدی کے لئے جب نمازوں کی ادائیگی فرض ہے تو عہدیدار جو ہر لحاظ سے افراد جماعت کے لئے نمونہ ہونا چاہئیں ان کے لئے تو خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی کوئی نماز بغیر جماعت کے نہ ہو سوائے کسی اشد مجبوری کے۔پس ہمیشہ یادرکھیں کہ یہ جو دو تین دن شوری کے لئے آتے ہیں اور آئے ہیں، ان میں صرف یہی نہیں کہ ان دنوں میں ہی یہیں نمازیں پڑھنی ہیں اور دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہے بلکہ ہر نمائندے کو ، ہر عہدیدار کو، با قاعدہ نماز با جماعت کا عادی ہونا چاہئے۔خود اپنے جائزے لیں، اپنا محاسبہ کریں، دین کی سر بلندی کی خاطر آپ کے سپر د بعض ذمہ داریاں کی گئی ہیں۔اگر ان میں دین کے بنیادی ستون کی طرف ہی توجہ نہیں ہے تو خدمت کیا کریں گے اور مشورے کیا دیں گے۔جو دل عبادتوں سے خالی ہیں ان کے مشورے بھی تقویٰ کی بنیاد پر نہیں ہو سکتے۔پھر بندوں کے حقوق ہیں۔نمائندگان اور عہدیداران کو اپنے دلوں کو ہر قسم کی برائیوں اور رنجشوں سے پاک کرنا ہوگا، لین دین کے معاملے میں بھی ان کے ہاتھ بالکل صاف ہونے چاہئیں۔ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں بھی ان کے ہاتھ بالکل صاف ہونے چاہئیں۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمسائے سے حسن سلوک کا خدا تعالیٰ کا حکم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس کی یہاں تک تاکید فرمائی ہے کہ صحابہ کو خیال ہوا کہ شاید یہ ہمارے ورثہ میں حصہ دار بننے والے ہیں۔تو جب اتنی تاکید ہے ہمسائے سے حسن سلوک کی تو یہ کس طرح برداشت کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جن کے سپر د جماعتی ذمہ داریاں کی گئی ہیں وہ اپنے ہمسایوں کے لئے دکھ کا باعث ہوں اور ہمسائے ان کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا ہوں۔