مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page ii
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی دیباچه آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپ کی اطاعت میں فنا شدہ قوم تھے۔ان کے دلوں کی نالیاں اطاعت کے پانی سے اس طرح لبریز ہو کر بہہ نکلیں تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے پر وہ اپنا سب کچھ آپ کے قدموں پر نچھاور کر دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ایک نظام کے تابع ہونے کی وجہ سے ان میں اطاعت کی روح حد کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔انہوں نے اپنی زندگیوں میں اطاعت کے ایسے عظیم الشان نمونے دکھائے جن کی مثال نہیں ملتی۔لیکن تاریخ اسلام کے اوراق میں ایک واقعہ ایسا بھی ملتا ہے جب غزوہ اُحد کے موقع پر چند صحابہ نے اپنے ذاتی اجتہاد سے کام لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حکم سے صرف نظر کی ، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو سخت نقصان اُٹھانا پڑا۔کئی قیمتی جانیں قربان ہو گئیں۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی زخم آئے۔کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ وہ صحا بہ جواپنے جان و مان اور عزت و آبرو کو تھیلی پر رکھ کر اس انتظار میں کھڑے رہتے تھے کہ کب اشارہ ہو اور ہم اپنا سب کچھ قربان کر دیں۔ان سے ایسی غلطی کیونکر سرزد ہو گئی ! اس میں ہر زمانہ کے لئے ایک سبق ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے مومنوں کو اس امر کی طرف متوجہ کیا ہے کہ جب بھی تم امام کی اطاعت سے سرِ مو بھی انحراف کرو گے اُس کی نصرت تمہارے شاملِ حال نہیں رہے گی اور تم تمام برکتوں سے محروم کر دیئے جاؤ گے۔تم در بدر کی ٹھوکریں کھاؤ گے اور کوئی تمہارا پرسان حال نہیں ہوگا۔پس ہر ایک کامیابی امام کی اطاعت ہی سے وابستہ ہے۔اطاعت وحدت قومی کی علامت ہے۔اگر اطاعت ہوگی تو ساری قوم ایک ہاتھ پر اکٹھی ہو کر ترقی کی طرف رواں دواں ہوگی اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کی وارث ٹھہرے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔اس میں یہی تو ستر ہے۔اللہ تعالیٰ تو حید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہوسکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد دوم صفحہ 247)