مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 171
171 ارشادات حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم اُس کا پیغام تو پھیلنا ہی ہے یہ تقدیر الہی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں۔لیکن اگر تم نے کنجوسی کی تو اپنی کنجوسی کی وجہ سے تم لوگ ختم ہو جاؤ گے جس طرح کہ حدیث میں ذکر بھی ہے اور لوگ آجائیں گے۔جیسا کہ فرمایا ہے {وَمَنْ يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهِ } (محمد: 39) اور جو کوئی بخل سے کام لے وہ اپنی جان کے متعلق بخل سے کام لیتا ہے۔پھر فرمایا { وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْا أَمْثَالَكُمْ } (محمد: 39) کہ اگر تم پھر جاؤ تو وہ تمہاری جگہ ایک اور قوم کو بدل کر لے کر آئے گا پھر وہ تمہاری طرح ستی کرنے والی نہیں ہوگی۔پس یہ مالی قربانیاں کوئی معمولی چیز نہیں ہیں ان کی بڑی اہمیت ہے۔ایمان مضبوط کرنے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہونے کے لئے انتہائی ضروری چیز ہے۔صحابہ کی قربانیوں کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح پھل لگائے جس کا روایات میں کثرت سے ذکر آتا ہے۔شروع میں یہی صحابہ جو تھے بڑے غریب اور کمزور لوگ تھے ، مزدور یاں کیا کرتے تھے۔لیکن جب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی مالی تحریک ہوتی تھی تو مزدوریاں کر کے اس میں چندہ ادا کیا کرتے تھے۔حسب توفیق بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کیا کرتے تھے تا کہ اللہ اور اس کے رسول کا قرب پانے والے بنیں ، ان برکات سے فیضیاب ہونے والے ہوں جو مالی قربانیاں کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقدر کی ہیں، جن کے وعدے کئے ہیں۔۔۔۔وقف جدید کی ذمہ داری۔۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” میرے پیارے دوستو! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک کچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے۔اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے۔سوئیں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیبہ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدا تعالیٰ نے اس کو وسعت و طاقت و مقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے۔اور میں پھر جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے ان علوم و برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خدا تعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں“۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 516)