مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 132

132 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصه سوم تو جتنی بھی سمجھ ہے ، بعض تو بڑے واضح احکام ہیں، سمجھنے کے بعد ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔کسی بھی اچھی بات کا یا نصیحت کا فائدہ تبھی ہوسکتا ہے جب وہ نصیحت پڑھ یا سن کر اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہو گی۔کیونکہ تلاوت کا ایک مطلب پیروی اور عمل کرنا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرما دیا ہے کہ یہ قرآن میں نے تمہارے لئے ، ہر اس شخص کے لئے جو تمام نیکیوں اور اچھے اعمال کے معیار حاصل کرنا چاہتا ہے اس قرآن کریم میں یہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لئے تمام اصول اور ضابطے مہیا کر دیئے ہیں۔ہر قسم کے آدمی کے لئے ، ہر قسم کی استعدا در کھنے والے کے لئے ، اور نہ صرف یہ کہ جیسا کہ میں نے کہا کسی خاص آدمی کے لئے نہیں رکھے ہیں بلکہ ہر طبقے اور ہر معیار کے آدمی کے لئے رکھے ہیں۔اور اس میں ہر آدمی کے لئے نصیحت ہے وہ اپنی استعداد کے مطابق سمجھ لے۔فرمایا کہ {وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مدكر (القمر: 18 )۔اور یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنادیا ہے۔پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔اب یہ ہمارے پر ہے کہ ہم اس تعلیم کو کس حد تک اپنے اوپر لاگو کرتے ہیں اور اس کی تعلیمات سے نصیحت پکڑتے ہیں۔قرآن کریم کو ایک مہجور کی طرح نہ چھوڑیں پس آج ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس رمضان میں اس نصیحت سے پر کلام کو، جیسا کہ ہمیں اس کے زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی توفیق مل رہی ہے، اپنی زندگیوں پر لا گوبھی کریں۔اس کے ہر حکم پر جس کے کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کریں۔اور جن باتوں کی مناہی کی گئی ہے، جن باتوں سے روکا گیا ہے ان سے رکیں، ان سے بچیں، اور کبھی بھی ان لوگوں میں سے نہ بنیں جن کے بارے میں خود قرآن کریم میں ذکر ہے۔فرمایا کہ { وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا } (الفرقان: 31) اور رسول کہے گا اے میرے رب ! یقیناً میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔یہ زمانہ اب وہی ہے جب اور بھی بہت ساری دلچسپیوں کے سامان پیدا ہو گئے ہیں۔پڑھنے والی کتابیں بھی اور بہت سی آچکی ہیں۔اور بہت ساری دلچسپیوں کے سامان پیدا ہو گئے ہیں۔انٹرنیٹ وغیرہ ہیں جن پر ساری ساری رات یا سارا سارا دن بیٹھے رہتے ہیں۔اس طرح ہے کہ نشے کی حالت ہے اور اس طرح کی اور بھی دلچسپیاں ہیں۔خیالات اور نظریات اور فلسفے بہت سے پیدا ہو چکے ہیں۔جو انسان کو مذہب سے دور لے